قائمہ کمیٹی نے کلبھوشن کی سزا پر نظر ثانی کا بل منظور کرلیا

  • جمعرات 22 / اکتوبر / 2020
  • 6310

اپوزیشن کی سخت مزاحمت کے باوجود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے فوجی عدالت سے جاسوسی و دہشت گردی پر سزائے موت پانے والے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کی سزا پر نظر ثانی کے متعلق حکومتی بل کی منظورکرلیا۔

بل کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے بل کو بھارتی جاسوس کے لیے این آر او قرار دیا تھا۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اور انصاف فروغ نسیم نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس آرڈیننس پر اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے عالمی عدالت انصاف کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے متعارف کروایا گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمان میں بل منظور نہ ہوا تو عالمی عدالت انصاف کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس موقع پر جے یو آئی ایف کی رکن اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ آپ نے اسٹیبلشمنٹ کو گمراہ کیا ہے۔ ہم یہاں بھارتی جاسوس کے لیے قانون سازی کرنے نہیں بیٹھے۔ اس بل کو بحث کے لئے عوام اور بار ایسوسی ایشنز کے سامنے پیش کرنا چاہیئے۔

پی پی پی رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے حکومت فوجی عدالت کی سزا کے خلاف کلبھوشن یادیو کو اپیل کی رعایت دے رہی ہے جو کسی پاکستانی شہری کو بھی میسر نہیں۔ یہ بھارتی جاسوس کو این آر او دینے کے مترادف ہے اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

اپوزیشن اراکین نے متفقہ طور پر بل کو ’بھارتی جاسوس کے لیے این آر او‘ قرار دیا اور کمیٹی کے چیئرمین ریاض فتیانہ سے اسے مسترد کرنے کی درخواست کی۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کمیٹی چیئرمین نے معاملہ ووٹنگ کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ووٹنگ کے دوران 8 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 5 نے مخالفت میں ووٹ دیے۔