برطانیہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کرے: پاکستان کا مطالبہ
- جمعرات 22 / اکتوبر / 2020
- 4660
وفاقی حکومت نے برطانیہ کی حکومت سے پھر کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو پاکستانی جیل میں سزا پوری کرنے کے لیے واپس بھیجا جائے۔ اس حوالے سے ایک خط ذاتی طور پر اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر کو دیا گیا ہے۔
یہ خط نواز شریف کے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس میں کی گئی تقریر کے تین ہفتے بعد برطانوی سفارت کار کے حوالے کیا گیا۔ اس تقریر میں انہوں نے سیاست میں مداخلت پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
خط کے ذریعے حکومت پاکستان نے برطانوی حکام سے نواز شریف کے وزٹ ویزا کو منسوخ کرنے پر غور کرنے کو کہا ہے۔ اس خط میں برطانیہ کے امیگریشن قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی شخص کو اگر چار سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی جائے تو اسے برطانیہ سے ڈی پورٹ کردیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے برطانیہ کے حکام کو نواز شریف کو ملک بدر کرنے کے لیے تین درخواستیں کی ہیں۔ آخری درخواست 5 اکتوبر کو بھیجی گئی تھی۔ آخری خط اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے نواز شریف کی ضمانت منسوخ کرنے کے بعد گزشتہ ماہ بھیجا گیا۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ اپنے تازہ خط میں حکومت نے سابق وزیر اعظم کی "مخصوص ملک بدری" کے ممکنہ طریقوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اب برطانوی حکومت کو فیصلہ کرنا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 ستمبر کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے کے ایک دن بعد وزیر اعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس سے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ وہ حزب اختلاف کے ساتھ اور بھی سخت رویہ اپنائیں گے۔ انہوں نے نواز شریف کو واپس لانے اور سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے لیے ہر ممکن کوششوں کا عزم ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں واپس لاؤں اور اس بار وی آئی پی کی بجائے عام جیل میں رکھا جائے۔
اس سے قبل اے پی پی نیوز ایجنسی کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے شہزاد اکبر کی جانب سے برطانوی سیکریٹری داخلہ پریتی پٹیل کو بھیجے گئے خط کے جزوی مواد شائع کیا تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پریتی پٹیل نوا شریف کو ملک بدر کرنے کی پابند ہیں تاکہ وہ بدعنوانی کے الزام میں دی گئی سزا بھگت سکیں۔
اخبار نے مزید کہا کہ پریتی پٹیل کو لکھے گئے خط میں برطانوی سیکریٹری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نواز شریف کو ملک بدر کرنے کے لیے اپنے وسیع اختیارات استعمال کریں۔