پاکستان کے مسائل کی جڑ؟

درویش کی اپنے سماج سے یہ شکایت ہے کہ وہ یہاں کبھی پورا سچ بیان نہیں کر سکا حالانکہ تمنائیں اور امنگیں ہرروزدل کی دہلیز پر بیٹھی اس کیلئے اکساتی اورہمت بندھاتی ہیں اورکبھی کبھی حوصلہ پاتے ہوئے اس ناتواں کاوش کا اہتمام بھی کیاہے۔

 ڈیڑھ برس قبل ایک ایسی ہی جسارت کی تومعلوم ہواکہ یہ تو خود کش حملہ ہے کیونکہ ہلکی سی جرا ت دکھانے پر جو بھاری قیمت ناچیز آج تک چکا رہاہے یا چکانے پر مجبور کر دیا گیا ہے اسے شامی صاحب جانتے ہیں یا پھر درویش کے گھروالے۔خاکسار کس باغ کی مولی ہے، یہاں تو میڈیا کاہرابھرا گلستان ہی خزاں رسیدہ و ویران بنا دیا گیا ہے۔ ابن الوقت بن کر خوشامد نگاری سے بہتر ہے کہ انسان دھوکا دہی کی بجائے کوئی اورڈھنگ کا کام کر لے۔ عزیمت کی راہ چھوڑ کر کم ظرفی پر آمادہ تو وہی ہو سکتا ہے جو بے ضمیر یا مردہ ضمیر ہو۔ لہٰذا عافیت اس میں ہے کہ اگر صیاد سے لڑائی جوگے نہیں ہو تو پھرراستہ بدل لو۔ وقتی و ہنگامی طور پر دیگر شعبہ جات ومسائل کو اپنے موضوعات بنا لو۔ اس لئے کہ ”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا“ لیکن ساتھ ہی ضمیر صاحب یہ طعنے دینا شروع کر د یتے ہیں کہ ”گریز کشمکش زندگی سے مردوں کی/ اگر نہیں ہے شکست تو اور کیا ہے شکست“؟

سچائی تو یہ ہے کہ آپ اپنے منہ جتنے مرضی میاں مٹھو بنیں جیسے مرضی بلند بانگ دعوے کریں لیکن اس سے تلخ زمینی حقائق بدل نہیں سکتے۔ طفل تسلیوں کے ساتھ ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن پوری دنیا کوبے وقوف نہیں بنا سکتے۔ دنیا ہمیں آزاد مہذب قوم کی حیثیت سے نہیں دیکھتی۔ وہ ہمارا شمار نارتھ کو ریا جیسی گھٹن کا شکار قوموں کے ساتھ کرتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کی سابق سیکرٹری آف سٹیٹ نے ڈیپ سٹیٹ کی تشریح کرتے ہوئے کھلے لفظوں میں ہمارے متعلق جس سچائی کا بے لاگ اظہارکیاہے اگر ہمارے اندر کچھ بھی غیرت اور عزت نفس ہو تو ڈوب مرنے کیلئے نہیں آنکھیں کھول دینے کیلئے یہ کافی ہونی چاہیے۔ لیکن شومئی قسمت کہ یہاں ہم نے لفظ غیرت اوربے غیرتی کے معنی ہی بدل ڈالے ہیں۔

وطن عزیز میں کمزوروں پر ہاتھ اٹھانا ، اپنی بچیوں کو قتل کرنا، اقلیتوں اور دبے ہوئے طبقات کے کمزور افراد کی زندگیوں اور عزتوں سے کھیلنا غیرت بنا رکھا ہے۔ جبکہ غنڈوں اور طاقتور بدمعاشوں کے سامنے سرنگوں ہو جانا بے غیرتی، نہیں دانشوری و دانشمندی ہے۔ بلاشبہ پہاڑ سے سر ٹکرانا عقلمندی نہیں لیکن بند گلی دیکھ کر مایوسی و ناامیدی کے ساتھ سرنڈر کرتے ہوئے گر پڑنا بھی جوانمردی نہیں۔ ایسے مشکل حالات میں بہتر رستوں کی تگ و دو اور جہد پیہم ہی زندگی کی علامت ہے ورنہ مردہ قوم، مردہ افراد سے کوئی بہت زیادہ مختلف نہیں ہوتی۔

 افراد کی طرح اقوام پر بھی بڑے بڑے مشکل اوقات آتے ہیں اگر وہ عزم و ہمت سے کام لیں جہالت و جذباتیت کی بجائے شعور و حکمت کا مظاہرہ کریں تو د نیا کی کوئی طاقت انہیں باوقار اور مہذب مقام حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی۔ اس سلسلے میں جرمنوں ، جاپانیوں اوربنگالیوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جبر جبر ہوتا ہے چاہےاپنوں کا ہو یا غیروں کا۔ ان ہر سہ اقوام کو جب جبر کی مسلح اپنی یا غیرطاقت نے کچلا تووہ مایوسی کے گڑھوں میں گرنے کی بجائے ہمت سے کام لیتے ہوئے ظلم بے انصافی اور ڈکٹیٹر شپ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں۔ آج وہاں آئین و قانون کی عملداری ہے، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کی سربلندی کے ساتھ قومی وقار اور معاشی ترقی و خوشحالی پوری دنیا کو صاف دکھائی دے رہی ہے۔

وطن عزیز پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کیاہے؟ مہنگائی، غربت، بے روز گاری ، کرپشن، لاقانونیت، جہالت، نفرت، مذہبی انتہا پسندی، جنونیت، دہشت گردی.... بیرون ملک سے آنے والا ہر پاکستانی کیوں یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ یارو دنیا میں پاکستان کے اس گرین پاسپورٹ کی کوئی عزت نہیں ہے، ہمیں کہیں کوئی منہ لگاتا ہے نہ گھاس ڈالتا ہے۔ ہمارا روپیہ اس قدر ٹکا ٹوکری ہو چکا ہے کہ بنگالیوں کا ٹکا ہم پر بھاری ہے، انڈیا اور بنگلہ دیش رہے ایک طرف، آج بدعملی ونااہلی کی گراوٹ یہ ہے کہ مصائب کے مارے افغانستان اور چھوٹے سے ملک، نیپال کی کرنسی بھی روپے کے بالمقابل معتبر اورطاقتور ہے۔ اس سے آگے ہم نے اور کس قہر مذلت میں گرنا ہے؟

کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ اس کی وجہ کیاہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1947 میں خطے کی پارٹیشن ضرور ہوئی مگر مغربی ہند کے اس خطے میں بسنے والے کروڑوں عوام کو اقتدار کی منتقلی آج کے دن تک نہیں ہو پائی۔

1947سے قبل بھی ہم طاقت کے غلام تھے اور گزشتہ سات دہائیوں سے بھی ہم محض طاقت کے ہی غلام چلے آ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ماقبل ہم سفید چمڑی والوں کے غلام تھے جن کی کچھ تہذیبی، آئینی اورجمہوری اقدار تھیں۔ جبکہ 47کے بعد جس طاقتور کالی چمڑی کی غلامی کے شکنجے میں ہم جکڑے گئے ہیں اسے معلوم ہی نہیں کہ اقدار اور حریت فکر کونسی بلائیں ہیں؟ پاکستان کا اصل ہیرو، مسیحا یا قومی قائد وہ شخص کہلائے گا جو مظلوم عوام کو غلامی کی ان طاقتور عسکری زنجیروں سے آزاد کروائے گا۔

 اے سنتے کانو! اور دیکھتی آنکھو! وقت کی آواز کو پہچانو، اپنی تقدیر بدلنے کے لئے اٹھو اور یہ عہد کر لو کہ زبان خلق ہی نقارہ ہی خدا ہوتی ہے۔ اگر ہم نے دنیا میں باوقار مہذب قوم کا مقام حاصل کرنا ہے تو پھر تجدید عہد کرو کہ طاقت کا سرچشمہ کوئی مسلح ادارہ نہیں، اس ملک کے بائیں کروڑ عوام ہیں۔ عوام کی رائے اور مرضی پر ڈکیتی ہی اصل ڈکیتی ، چوری اور کرپشن ہے۔ ٹہنیوں کو نہیں برائی کی جڑ کوکاٹو، طاقتور زہریلے مڈھ کو تلف کرو اور یہ حلف اٹھاﺅ کہ صرف آئین کی پاسداری ہی ہماری قومی سلامتی کی علامت ہے۔

پاکستان کا تقدس اور اس کی حرمت آئین اور اس کو تشکیل دینے والی پارلیمنٹ ہے جو عوامی امنگوں کا ترجمان اصل مقتدر ادارہ ہے۔