آذربائیجان، آرمینیا تنازعہ میں پانچ ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں: صدر پوتن
- جمعہ 23 / اکتوبر / 2020
- 6800
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ناگورنو قرہباخ کے تنازع پر حالیہ جھڑپوں کے دوران اب تک تقریباً پانچ ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
اموات کی یہ تعداد دونوں ممالک کی جانب سے بتائی گئی اموات کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ پوتن کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے سربراہان اور عہدیداروں سے دن میں کئی مرتبہ رابطہ کرتے ہیں۔ روس اس تنازع میں کسی ایک ملک کی حمایت نہیں کر رہا۔ ماسکو اس مسئلے پر ترکی سے اختلاف رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ اس تنازع میں ترکی آذربائیجان کی حمایت کر رہا ہے۔
روسی صدر نے امریکہ سے بھی اس خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناگورنو قرہباخ تنازع سے متعلق آرمینیا اور آذربائیجان ایک دوسرے پر جنگ بندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ سے اس علاقے میں جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ عالمی سطح پر ناگورنو قرہباخ کو آذربائیجان کا حصہ قرار دیا جا چکا ہے لیکن یہاں آرمینیائی نسل کے افراد اکثریت میں آباد ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان واشنگٹن میں جمعے کو بات چیت ہو رہی ہے۔ توقع ہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے حکام اس روز امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کریں گے۔ امریکہ، روس اور فرانس اس اتحاد کا حصہ ہیں جنہوں نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازع کا محور ناگورنو قرہباخ نامی علاقہ ہے۔ اس علاقے کو آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کا انتظام آرمینیائی نسل کے لوگوں کے پاس ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس علاقے کو حاصل کرنے کے لیے 80 اور 90 کی دہائی میں خونریز جنگیں ہو چکی ہیں۔