یورپ میں 10 روز کے دوران کورونا کیسز کی تعداد دو گنا ہو گئی

  • جمعہ 23 / اکتوبر / 2020
  • 5580

یورپ میں 10 روز کے دوران کورونا وائرس کیسز کی تعداد دو گنا ہو گئی ہے۔ جمعرات کو ایک روز کے دوران پہلی مرتبہ دو لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

یورپ میں پہلی مرتبہ 12 اکتوبر کو کورونا وائرس کے ایک لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ متعدد جنوبی یورپین ممالک میں رواں ہفتے ایک روز میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جمعرات کو اٹلی، آسٹریا، کروشیا، سلوینیا اور بوسنیا میں ایک دن کے دوران سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے۔

فرانس میں یومیہ اوسطاً 25 ہزار کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ نیدرلینڈز میں 24 گھنٹوں کے دوران نو ہزار سے زائد افراد کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی اطلاع ہے۔  جرمنی میں 10 ہزار یومیہ کیسز سامنے آرہے ہیں۔ جرمنی نے سوئٹزر لینڈ، آئرلینڈ، پولینڈ، آسٹریا اور روم کے لیے سفری پابندیوں میں توسیع کر دی ہے۔

یورپ میں مجموعی طور پر اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 78 لاکھ ہو گئی ہے۔ تقریباً دو لاکھ 47 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 54 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد کیسز کی کُل تعداد 77 لاکھ 60 ہزار ہوگئی ہے۔ متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے بھارت، امریکہ کے بعد کورونا سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ امریکہ میں اب تک 83 لاکھ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔

بھارت میں مرنے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہورہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا کے 690 مریض ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد اموات کی کُل تعداد ایک لاکھ 17 ہزار ہو گئی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں دوبارہ تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکام سخت احتیاطی تدابیر کا مشورہ دے رہے ہیں۔ عوام سے کہا گیا ہے کہکورونا کی روک تھام کے لئے سماجی فاصلہ قائم کرنے، ماسک پہننے کے علاوہ بار بار ہاتھ دھونا یا سینیٹائزر کا استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔

ملک میں اب تک 3 لاکھ 26 ہزار 216 افراد مہلک وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جس میں سے 6 ہزار 715 مریض انتقال کر گئے۔ جمعہ کو ملک میں کورونا کے مزید 460 کیسز سامنے آئے اور 12 مریض انتقال کر گئے۔

پاکستان میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئے تقریباً دوسرا مہینہ ہے۔ لیکن اب بھی بہت سے لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو پا رہے۔ معیشت کے اعداد و شمار بدستور پریشان کن ہیں۔