کراچی واقعہ بڑوں کی لڑائی ہے، نواز شریف کا بیانیہ درست ثابت ہؤا: مریم نواز
- جمعہ 23 / اکتوبر / 2020
- 5910
مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ کراچی میں ان پر حملے میں وزیر اعظم عمران خان کسی گنتی میں نہیں اور یہ بڑے لوگوں کی لڑائی ہے جس میں عمران خان کہیں نہیں ہیں۔
لاہور میں احتجاج کرنے والے طلبا سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ مجھے بہت افسوس ہے کہ بلوچستان، فاٹا اور راجن پور کے یہ بچے سڑکوں پر ہیں اور کسی کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ آ کر پوچھے کہ ان کا مسئلہ کیا ہے۔ 35 سے 36ہزار میں سے 600 سیٹیں ہیں اور وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں اور وہ کوٹا بھی ختم کردیا ہے۔ کوٹے کے ساتھ ساتھ ان کی سیٹوں کو بھی بحال کیا جانا چاہیے۔
مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ شہباز شریف نے انہیں اسکالرشپ دیے تھے لیکن وہ 600اسکالر شپ بند کردیے گئے۔ شہباز شریف نے صوبہ پنجاب اور دوسرے صوبوں کی خدمت کی۔ شہباز شریف کے بغیر آج پنجاب لاوارث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو کرپشن کی سزا نہیں مل رہی بلکہ یہ بھائی کو بھائی سے لڑانے کی سازش تھی۔ بھائی کا ساتھ دینے پر انہیں سزا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ کو مخالفین کے گھبرانے سے سمجھ جانا چاہیے کہ میاں صاحب پاکستان میں نہ ہو کر بھی ہر جگہ موجود ہیں اور مخالفین کے سروں پر سوار ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف نے کہا کہ عمران خان ہمارا ہدف نہیں ہے۔ عمران خان راستے سے ہٹ جائے۔ بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کام نہیں ہے تو انہوں نے وہی کر کے دکھایا۔ کراچی میں جو مجھ پر حملہ ہوا اور جو ریاست کے اوپر ریاست کا معاملہ سامنے آیا اس میں کہاں ہے عمران خان۔ انہوں نے خود بتادیا ہے کہ میں کسی گنتی میں نہیں ہوں۔
مریم نواز نے کہا کہ یہ دو تین چار بڑے لوگوں کی لڑائی ہے جس میں عمران خان کہیں نہیں ہے۔ نہ وہ اِن بچوں کے ساتھ ہیں اور نہ وہ ان غریبوں کے ساتھ ہیں جن کے چولہے بجھ گئے ہیں، دو سال میں جو ان کا حال ہوا ہے وہ اپوزیشن نہیں بلکہ عوام کی بددعاؤں سے ہوا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جلد یا بدیر عاصم سلیم باجوہ کو عدالت اور قانون کے سامنے پیش ہونا ہی پڑے گا۔ یہاں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، اگر تین مرتبہ کا وزیر اعظم نواز شریف ایک جھوٹے مقدمے میں اپنی بیٹی سمیت عدالتوں میں پیشیوں کی دو سنچریاں بنا سکتا ہے تو عاصم سلیم باجوہ کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ قانون کے آگے پیش نہیں ہو سکتے۔
مریم نواز نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کا صرف معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہو جانا کافی نہیں ہے۔ وہ سی پیک اتھارٹی کے عہدے سے بھی استعفیٰ دیں۔ عاصم سلیم باجوہ سے ان کے خاندان کے کاروبار کا حساب نہیں مانگا جا رہا بلکہ یہ پوچھا جا رہا ہے کہ آپ کے خاندان نے پوری دنیا میں اربوں کھربوں کے اثاثے کیسے بنائے اور یہ سوال کرنا ہمارا اور پاکستان کے عوام کا حق ہے۔
مسلم لیگـ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ کراچی میں جو ہوا اس سے پتہ چل گا ہے کہ حکومت اصل میں کس کی ہے۔ عمران خان کو تو ایک ڈمی بنا کر کرسی پر بٹھایا ہوا ہے۔ نواز شریف نے تو بات کی تھی کہ عمران خان صرف مہرہ ہے، آپ نے عملی طور سے قوم کو بتا دیا کہ حکومت کے اوپر حکومت کیا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مشیر اور ترجمان اپنی خفت مٹانے کے لیے بیان بازی کر رہے ہیں کیونکہ انہیں کچھ نہ سمجھتے ہوئے یہ آپریشن کیا گیا ہے۔ انہیں تو پتہ ہی نہیں تھا۔ یہ اُن کی اپنی ہی جعلی حکومت پر بھی حملہ ہے۔
کراچی واقعے پر انکوائری کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر چیز عوام کے سامنے ہے، رپورٹ ہوئی ہے۔ انکوائری سب سے کے سامنے ہونی چاہیے اور 30 دن بعد آنے والی رپورٹ کو منظر عام پر لانا چاہیے اور اس میں کسی چز کو چھپانا نہیں چاہیے۔ اگر چھپائیں گے تو یہ ہم ہونے نہیں دیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت گھبرا کر بنی گالا میں چھپ کر بیٹھی ہے، میں تو سمجھ رہی ہوں کہ شاید یہ حکومت جنوری سے بہت پہلے چلتی بنے۔
مریم نواز نے کہا کہ جب یہ حملہ ہوا تو مجھے ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ اس کے پیچھے پیپلز پارٹی ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ ایک سیاسی قوت ہے۔ ہم ایک دوسرے کے حریف ضرور ہو سکتے ہیں لیکن دشمن نہیں ہیں۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔
آرمی چیف کی جانب سے کراچی واقعے کا نوٹس لیے جانے کے سوال پر مسلم لیگ(ن) کی رہنما نے کہا کہ جمہوریت میں حکومت اور عدلیہ کو نوٹس لینا چاہیے۔ کسی اور کو نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی کسی اور سے اپیل کی جانی چاہیے۔