رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو کوئٹہ ایئرپورٹ پر روک لیا گیا
- ہفتہ 24 / اکتوبر / 2020
- 7460
رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور پی ٹی ایم کے لیڈر محسن داوڑ کو کوئٹہ ایئرپورٹ پر روک لیا گیا ہے۔ وہ پی ڈی ایم کے 25 اکتوبر کے جلسے میں شرکت کے لئے کوئٹہ پہنچے تھے۔
بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول سے گفتگو میں محسن داوڑ نے بتایا کہ جب وہ دو پہر دو بج کر 40 منٹ پر کوئٹہ پہنچے تو شہر کی ضلعی انتظامیہ نے انہیں اطلاع دی کہ ان کے شہر میں داخلے پر پابندی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ پچھلی دفعہ آیا تھا تو بلوچستان حکومت کے ترجمان نے بتایا تھا کہ چونکہ یہاں دھماکہ ہوا ہے اس لیے آپ باہر نہیں جا سکتے۔ تو اب کیا مسئلہ ہے؟ اب پورے پاکستان کی سیاسی قیادت یہاں آ رہی ہے تو ایک محسن داوڑ سے کیا مسئلہ ہے؟
واضح رہے کہ اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کا جلسہ اتوار کو کوئٹہ میں ہو رہا ہے جس کے لیے محسن داوڑ کوئٹہ پہنچے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز بھی اتوار کے جلسے سے خطاب کرنے کے لیے کوئٹہ پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے شہر میں کارکنان سے خطاب بھی کیا اور کوئٹہ کے ایک نجی ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اس وقت انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جہاں سے وہ کوئٹہ کے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔
کوئٹہ ایئرپورٹ پر روکے جانے پر رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ بے بس ہی تھی کیونکہ ان کو جو ’اوپر سے آرڈر آتے ہیں وہ اسی پر عمل کرتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’حکومت بھی نہیں، جو اصل حکومت ہے،اور جو ریاست کے اوپر ریاست ہے یہ ان کا ہی فیصلہ ہے۔ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ بھی بے بس ہیں اور پوری بیوروکریسی بھی بے بس ہے۔'
محسن داوڑ کو ایئرپورٹ پر روکنے پر پشتون تحفظ موومنٹ کے اراکین کوئٹہ کے ہوائی اڈے کے باہر جمع ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق محسن داوڑ کو اس سے پہلے بھی نقص امن کے خدشے کے تحت ایئرپورٹ پر روکا جا چکا ہے تاہم اس بار وزیر اعظم عمران خان کی مداخلت پر انہیں باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
پی ڈی ایم کی جانب سے پہلے جب یہ اعلان کیا گیا کہ سات اکتوبر کو پہلا جلسہ عام کوئٹہ میں ہو گا تو بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ان جماعتوں کو عوام کی حمایت حاصل نہیں اس لیے انہوں نے سب سے پہلے کوئٹہ کا انتخاب کیا۔
تاہم جب بعد میں پی ڈی ایم نے جلسوں کی شیڈول میں تبدیلی کی اور کوئٹہ کے جلسہ عام کو گوجرانوالہ اور کراچی کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا گیا تو سکیورٹی خدشات کا جواز پیش کر کے بلوچستان حکومت نے کوئٹہ کے جلسہ عام کو ملتوی اور منسوخ کرنے کی درخواست کی۔