اب این آر او اب صرف عمران خان کو چاہئے: مریم نواز
- ہفتہ 24 / اکتوبر / 2020
- 5600
مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم عمران خان نےکہا ہے کہ سلیکٹڈ کو پتا ہونا چاہیے کہ برطانیہ قانون کے تحت چلتا ہے اور وہاں ارشد ملک جیسے ججز نہیں ہوتے۔
پی ڈی ایم جلسے میں شرکت کے لیے کوئٹہ روانگی سے قبل جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں میاں نواز شریف بھی تقریر کریں گے۔ کل اگر آپ نے عمران خان کا انٹرویو سنا ہو تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کی تحریک سے کتنا بڑا اثر پڑا ہے۔ یہ معاملات مجھے زیادہ دیر چلتے نظر نہیں آتے۔
مریم نواز نے کہا کہ برطانیہ قانون کے تحت چلتا ہے، وہاں ارشد ملک جیسے ججز نہیں ہوتے۔ وہاں عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈال کر کوئی وزیر اعظم مسلط نہیں کیا جاتا اور دباؤ کے تحت ججز سے فیصلے نہیں لیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہاں جائیں تو انہیں پتا چلے گا۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ ایک دفعہ یہ الطاف حسین کو بھی لانے گئے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ نواز شریف کو واپس لانے کے لیے ہم برطانوی حکومت سے بات کررہے ہیں کیونکہ یہ جھوٹ بول کر گیا ہے۔ انہیں ڈی پورٹ کرنے کے لیے برطانوی عہدیداروں سے بات چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر اس کے لیے مجھے جانا پڑا تو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے بات کروں گا۔
مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے مزید کہا کہ کراچی سے جیو نیوز کے صحافی علی عمران کو غائب کردیا گیا ہے۔ سننے میں آیا ہے انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی تھی تو ان کو اٹھا کر لے گئے، یہ بہت افسوس کی بات ہے۔
جنرل باجوہ کی طرف سے کراچی واقعہ کی انکوائری کے حکم کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ انکوائری کرنے کا حق حکومت سندھ کو ہے۔ یہ وفاقی حکومت جعلی حکومت ہی صحیح، انہیں وزیر اعظم کے دفتر میں بیٹھ کر اسے دیکھنا چاہیے۔ کسی اور ادارے کو تحقیقات کا حق نہیں ہے البتہ انہیں تحقیقات میں شامل ضرور کر سکتے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب عمران خان کو این آر او کی ضرورت ہے، اور کسی کو نہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کا جو فیصلہ آیا ہے اس کے بعد نہ سلیکٹڈ کو، نہ قاضی فائز عیسیٰ جیسے دیانتدار جج کے خلاف سازش کرنے والے کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق ہے۔
انہوں نے نہ صرف قاضی فائز عیسیٰ جیسےدیانتدار جج کے خلاف بلکہ آزاد عدلیہ پر وار کیا تھا جس کو عدلیہ نے روکا ہے ۔ جو سازش کل ثابت ہو گئی ہے اس کے بعد انہیں اقتدار سے چپکے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عمران خان 5 سال پورے کریں گے تو مریم نواز نے جواب دیا کہ انشااللہ یہ سال بھی پورا نہیں کریں گے۔
کوئٹہ پہنچنے کے بعد کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اور اب پی ڈی ایم میں شامل 11 جماعتوں نے خوف کی زنجیریں توڑی ہیں، فر عونیت کو للکارا ہے اور اس کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی ہے۔
نواز شریف نے ریاست کے اوپر ریاست کی بات کی اور اس کے چند دن بعد کراچی میں اس کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ ریاست کے اوپر ریاست یہ ہے کہ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے، عمران خان پاکستان کی سیاست اور حکومت منظر نامے سے بالکل غائب ہیں۔ آپ لاکھ الزام دیں حکومت کو لیکن وزیر اعظم کو بھی نہیں پتہ کہ کراچی میں اس دن کس نے کیا کیا۔