عالمی معیشت عدم مساوات کا شکار ہے

  • تحریر
  • ہفتہ 24 / اکتوبر / 2020
  • 10410

دنیا  میں کبھی بھی معاشرتی  اور اقتصادی مساوات نہیں رہی۔  انسان ہمیشہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے کوشاں رہا ہے۔ سبقت لے جانے  کی  خواہش اگر  جنون اور  تعصب  کے رنگ میں ڈھل  جائے تو یہ  جنگوں، قتل و غارت،  غلامی، نوآبادیاتی تسلط اور وسائل  پر بلا شرکت ِ غیرے  تصرف کے راستے پر دھکیل دیتی ہے۔

 دو سری جنگ ِ عظیم کے بعد عالمی سطح پر کثیر ا لاقوامی اداروں اور معاہدات کا دور شروع ہوا۔عالمی تجارت کے ادارے ڈبلیو ٹی او کے قیام اور تجارتی ورلڈ آرڈر نے  ایک نئی دنیا کو جنم دیا  جس میں دولت  اور ٹیکنالوجی نے انسان کی  اس جبلت کو نئی  جہتیں دکھائیں۔ دولت کا ارتکاز ان میں سے ایک ہے جو اس قدر  خوفناک اور کریہہ ہے  جِسے دیکھنے سے  بھی  جھرجھری آئے۔  دنیا میں دولت اور وسائل کی تقسیم  پر   عالمی تحقیقی ادارہ   اوکسفوم  انٹرنیشنل  ایک سالانہ رپورٹ جاری کرتا ہے۔ اس بار جاری اس رپورٹ کے مطابق دنیا کے  صرف 2153 افراد کے پاس   ساڑھے چار ارب لوگوں  سے زیادہ دولت ہے جو  دنیا کی آبادی کا ساٹھ فی صد ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ   کے مطابق دنیا کی  مجموعی آمدنی میں  امیر ترین  ایک فیصد کا حصہ 1990 سے لے کر 2015 کے درمیان  46%   سے بڑھ کر57%  ہو گیا۔ جبکہ  نچلے 40% فی صد طبقات کی آمدنی میں 25%  کمی واقع ہوئی۔مطلب یہ کہ دولت کے انبار تو بڑھ رہے ہیں مگر کچھ اس انداز سے کہ امرا  امیر سے امیر تر ہو  رہے ہیں اور غریب  مزید تہی دست!

  چین  حالیہ سالوں میں دنیا  کا  معاشی سپر مین بن کر سامنے آیا ہے۔ سیاسی نظام  کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں ہے لیکن  سوشلسٹ معاشی نظام میں  سرمایہ دارانہ نظام  کی کامیاب  پیوندکاری کی گئی۔  اس  بے مثل  پیوندکاری کے نتیجے میں چالیس سال کے قلیل عرصے میں چین دنیا کے معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اب امریکہ اور یورپ کا ہمسر ہے۔  اس کامیاب معاشی ترقی کے نتیجے میں گزشتہ تیس سالوں میں ستر کروڑ افراد خطِ غربت سے اوپراٹھ سکے۔ ہمارے وزیر  اعظم عمران خان اس کامیابی  کے معترف ہیں اور بار بار اس کامیابی کے  گُر سیکھنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ غربت کے خاتمے کا مقصد  قابل داد ہے مگر  کیا کیجئے کہ جہاں دولت  کا ہن برسنا شروع ہو تا ہے وہیں وسائل پر کچھ لوگوں  کا  تصرف بہت زیادہ اور نچلے طبقات کا حصہ کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ 

 چین میں  رواں ہفتے  امیر ترین لوگوں کی رینکنگ پر مبنی ایک سالانہ رپورٹ جاری ہوئی۔ اس رپورٹ  کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران  چین میں 257 نئے ارب پتی  سامنے آئے یعنی ہر ہفتے پانچ نئے ارب پتی بنے۔ یوں چین میں اس وقت  امریکی ڈالرز کے پیمانے کے مطابق  878  ارب پتی ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ تعداد ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ 1990 میں چین میں ایک بھی ارب پتی نہ تھا۔ کچھ یہی  صورت بھارت میں ہے۔ کووڈ19 نے ٹیکنالوجی  کی بڑی کمپنیوں کے اثاثوں میں راتوں رات پر لگا دئے۔

مسئلہ ارب پتیوں کی تعداد کے  بڑھنے کا نہیں بلکہ  وسائل اور دولت کی اس ناہموار تقسیم کی کوکھ سے جنم لینے والے  مہیب معاشرتی اور معاشی تفاوت کو   تیز رفتاری سے ابھر؎نے کا ہے۔ معاشی  تقسیم سے  معاشرتی بے چینی اور مایوسی  ممالک کے لئے ایک شدید خطرہ ہے۔  امریکہ  اور یورپ میں  معاشی ناہمواری  سے پیدا شدہ بے چینی اب سیاسی میدان میں دائیں بازو کی شدت پسند سیاست اور عوامی غصے کی  شکل اختیار کر رہی ہے۔ امرا  پالیسی سازی پر  دولت کے بل بوتے پر حاوی ہو کر من چاہے مفادات اچک لیتے ہیں جبکہ غریب  کی  دو وقت کی روٹی کی  مشقت سے ہی جان نہیں چھوٹتی۔

پاکستان میں بھی دولت کی  تقسیم اور ترقی کا  رخ کچھ اسی  طرف  ہی ہے۔   کئی ماہرین نے پاکستان کی  ترقی کو  معاشی اشاریوں کی حد تک ترقی سے تعبیر کیا  ہے لیکن اس کے ہم پلہ  سماجی بہتری  کے بارے میں جواب غیر تسلی بخش  ہے یعنی پیداوار  میں اضافہ کا فائدہ عام لوگوں تک نہیں پہنچتا۔ عوام کی بہبود اور ریلیف سیاست کے پسندیدہ موضوعات ہیں لیکن عملاٌ پالیسی  سازی اور گورننس  میں عوامی بہبود یعنی ترقی کے بارے میں زبانی جمع خرچ تو بہت ہے لیکن عمل مایوس کن۔  حال ہی میں  معروف ماہرِ معیشت  جمیل ناصر نے اس موضوع پر  اپنے ہمہ جہت مقالات پر مشتمل کتاب تحریر کی ہے:

 Development for an equitable society

 ان کے خیال میں  معاشی  تفاوت میں گورننس کے  نظام  کی ترکیب میں موجود خرابیوں اور مسلسل بگڑتے ہوئے معاشی  عناصر  ہیں۔  انہوں نے تین ایسے عناصر کی نشان دہی  کی ہے جو بنیادی بگاڑ کا سبب ہیں۔ اول:زرعی زمینوں  کی تقسم نو  سے گریز کی وجہ سے  وراثتی طبقات  وسائل پر اپنے قبضے کو مستحکم بنانے میں کامیاب  رہے۔  دوم:  ہمارا ٹیکس نظام بالواسطہ محصولات پر انحصار کی وجہ سے اپنی اصل میں غیرمنصفانہ ہے۔ براہِ راست ٹیکسز اور  مالی استعداد سے  مسلسل گریز کی وجہ سے دولت کے ارتکاز میں اضافہ ہؤا اور معاشی ناہمواری کو مزید بڑھاوا ملا۔ معاشی ترقی کے ثمرات امیر طبقات کو وافر اور نچلے طبقات کو بہت کم نصیب ہوئے۔ سوم:  معاشی و سماجی نظام کی ایسی ترکیب جہاں طاقت، تعلق اور وسائل  کی بنیاد پر بیٹھے بٹھائے  فوائد جھولی میں  آ گریں ، یہ طفیلی انداز اشرافیہ  نے ہاں  استحقاق کی سی روایت بن گیا ہے۔

 دیگر بہت سے ممالک کی طرح پاکستا ن میں بھی  معاشی اور گورننس کا  نظام وقت کے ساتھ ساتھ  مٹھی بھر اشرافیہ کی  چاکری پر مامور ہے۔ اس نظام کی برکت ہے کہ ہر ایمنسٹی  اسکیم میں تو اربوں روپوں کے اثاثوں پر صداقت  مہر لگ جاتی ہے مگر عوام  کی زندگی پہلے سے بھی دوبھر ہو رہی ہے۔ مہنگائی، روزگار، امن و امان، تعلیم اور صحت جیسے روزمرہ کے پیمانوں پر امراء کے جینے کے ڈھب اور ہیں اور عوام کے شب و روز اور۔ اس بے ترتیب بہبودی نظام کی کوکھ  میں بے یقینی، بے چینی اور  مایوسی پل رہی ہے مگر کسے فرصت ہے کہ ان  مسائل پر جان کھپائے۔