آئین جمہوریت اور مولانا؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 24 / اکتوبر / 2020
- 7910
ہمارے خلیفہ دوئم فرمایا کرتے تھے کہ ہر بدعت (نئی اختراع) بری نہیں ہوتی اگر ایک بدعت سیہ(بری) ہوتی ہے تو دوسری بدعت حسنہ کہلاتی ہے۔ تشریح اس کی یہ فرماتے تھے کہ ایسی نئی اختراع جو عامة الناس کے فائدے میں ہو وہ بدعت حسنہ ہے اور جو اختراع یا نئی چیز مفاد عامہ کے خلاف ہو گی وہ بدعت سیہ کہلائے گی۔
اسی اصول پر ہم عرض کریں گے کہ کسی بھی شعبے میں تمام لوگ برے نہیں ہوتے، طبقہ علماء میں بھی جہاں علمائے سو کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے وہیں علمائے حق بھی پائے جاتے ہیں۔ علماء سے مراد علم والے لوگ ہیں اس میں مذہبی یا غیر مذہبی کی تخصیص نہیں ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کہا کرتے تھے کہ علماء کی ٹرم صرف مذہبی علم تک محدود نہیں کی جانی چاہیے جو سائنس کا علم رکھتے ہیں وہ علمائے سائنس ہیں، اسی طرح معیشت، طب یاسیاست کا علم رکھنے والوں کو ان علوم کے علماء قرار دیا جانا چاہیے۔ دیگر شعبہ جات کی طرح دینیات کے علمائے حق ہر دور میں فریضہ حریت و خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ اسی قافلے کے ایک سالار حضرت مولانا مفتی محمودؒ تھے جو آج سے چالیس برس قبل اسی ماہ اکتوبر میں راہی ملک عدم ہوئے مگر اپنی محض 61 سالہ زندگی میں انہوں نے وہ کارہائے سرانجام دیے کہ جو بہت سے لوگ 90 سالہ زندگی میں بھی ادا کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔
مفتی صاحب نے ایک عالم دین ہوتے ہوئے شعبہ سیاست میں جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ بہت سے سکہ بند سیاستدانوں پر بھاری ہیں۔ ان کا دینی شعور کبھی جمہوریت اور آزادی اظہار کے ساتھ نہیں ٹکرایا۔ وہ مولانا محمود الحسن ، مولانا عبید اللہ سندھی اور مولانا حسین احمد مدنی جیسی قدآور مذہبی و سیاسی شخصیات کا تسلسل تھے جو ضمیر کی آواز پر جبر و استبداد کے خلاف اٹھنا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے تھے۔ مفتی صاحب نے جس طرح سویلین جبر کے خلاف اٹھنے والی تحریک کی قیادت فرمائی تھی، عین اسی طرح وہ اس وقت عسکری جبر کے خلاف بھی کمربستہ ہو گئے، جب انہوں نے دیکھا کہ ضیاالحق کا جبر مذہب کے مقدس نام اور لبادوں میں لپیٹ کر پیش کیا جا رہا ہے تو انہوں نے تحریک بحالی جمہوریت یعنی کی قربت میں بھی ذرا کوتاہی نہیں کی۔
حالانکہ ایم آر ڈی بنیادی طور پر محترمہ بینظیر بھٹو کی رہنمائی میں پیپلز پارٹی کی تحریک تھی۔ اگر سویلین جبر نے بلوچستان کی منتخب جمہوری حکومت پروار کیا تھا تو مفتی صاحب نے باچا خاں کے فرزند خاں عبدالولی خاں کے ساتھ مل کر بنائی گئی سرحد کی کولیشن گورنمنٹ جس کے وزیراعلیٰ مفتی صاحب خود تھے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ یہ ان کی عظمت تھی کہ جب مذہب کا نام سیاست میں بے دردی سے استعمال کیا جا رہا ہے تھا تو وہ کسی جذباتیت یا بلیک میلنگ میں آئے بغیر عسکری آمریت کے خلاف آواز بلند کرنے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔
آج مفتی صاحب کے فرزند مولانا فضل الرحمن نے بھی اپنے کردار سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے والد مرحوم کی طرح اسی انقلابی قافلہ حریت کا تسلسل ہیں۔ مولانا کی کردار کشی کیلئے کون کون سے ہتھکنڈے نہیں آزمائے گئے کون کون سے گھناﺅنے الزامات ہیں جو اس کھرے اور دو ٹوک انسان پر عائد نہیں کئے گئے مگر ان کے قدم ندائے حق بلند کرنے میں کبھی نہیں ڈگمگائے۔
ہمارے موجودہ سیاستدانوں کی کھیپ میں وہ سب سے بڑھ کر واضح ذہن کی حامل شخصیت ہیں ہمارے موجودہ طبقہ علماء میں وہ سب سے بڑھ کر سیاسی شعور اور سوجھ بوجھ ہی نہیں رکھتے بلکہ سیاست کی باریکیوں اور نزاکتوں کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جذبہ حریت اور قوت عمل سے بھی مالا مال ہیں، جب اپوزیشن کے تمام سیاستدان آنے والے حالات کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھے مولانا اس وقت بھی واضح اور دو ٹوک موقف کا اظہار کرنے میں کسی لیت و لعل سے کام نہیں لے رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مابعد پوری اپوزیشن نے ان کی امامت میں پی ڈی ایم تشکیل دی جس کی آﺅٹ پٹ میں دیر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں۔
اپنے تمام تر جذبے اور ولولے کے باوجود مولانا کی شخصیت میں ہوش مندی اور معاملہ فہم کا ایسا توازن ہے کہ بیک وقت وہ مختلف الخیال لوگوں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔ اس وقت مذہبی و سیاسی طور پر مختلف مکتبہ ہائے فکر کے لوگ بڑی خوبصورتی کے ساتھ ان کے ہمراہی ہیں۔ طاقتوروں کو بھی وہ چڑاتے نہیں ہیں بلکہ سمجھاتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے آنکھ اور پتلی کے استعارے سے کیا خوبصورت تمثیل پیش فرمائی ہے۔ پتلی کا کام آنکھ کی حفاظت کرنا ہے لیکن اگر پتلی کا کوئی بال اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے آنکھ میں گھس جائے تو آنکھ رو کر یا دکھ جھیل کر اسے نکال باہر کرتی ہے۔ اگر رونے سے بھی یہ بال مداخلت بیجا سے باز نہیں آتا تو اسے انگلیوں کی طاقت سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔
مولانا کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ ہر ریاستی یا حکومتی شعبے کو اپنی حدود و قیود میں رہ کر فریضہ منصبی ادا کرنا چاہیے۔ وہ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور کوئی بھی مسئلہ ہو وہ ہمیشہ اسے 1973 کے آئین کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جس طرح مذہبی حوالوں سے انہوں نے کبھی دہشت گردی و شدت پسندی کا ساتھ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر کئی مرتبہ متشدد گروہوں کی طرف سے حملے بھی ہو چکے ہیں مگر وہ ہمیشہ اعتدال اور توازن کی بات کرتے پائے گئے لیکن ان کی اعتدال پسندی انہیں کبھی حق سچ بیان کرنے سے روک نہیں پائی۔ مسئلہ پارلیمنٹ کی عظمت کا ہویا آئین کی سربلندی کا یا صوبائی خود مختاری کا، انہوں نے ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ تمام اکائیوں کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی اس جدوجہد کا مقصد کیا ہے تو صاف گویا ہوتے ہیں کہ ”ہم ملک میں موجود غیر اعلانیہ مارشل لاء کے خاتمے اور عوامی جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں“۔
خرابی اس وقت پڑتی ہے جب آپ دوسروں کے کام میں ٹانگیں گھسیڑتے ہوئے مداخلت بیجا کرتے ہیں، اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں۔ کسی کو ان پر بالکل اسی طرح شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جس طرح عوامی رائے کی چوری یا ڈکیٹی قبول نہیں کی جا سکتی۔ انسانیت کی اس سے بڑی توہین ہو ہی نہیں سکتی کہ انسانوں کی مرضی و منشاء کو طاقت کے زور سے کچل دیا جائے۔ ہماری دعا ہے کہ مولانا کی جدوجہد سے جہاں آئین اور جمہوریت کا بول بالا ہو وہیں وطن عزیز کو سماجی، معاشی اور سیاسی استحکام نصیب ہو۔ سیاست سے جہاں الزامات تراشیوں اور منافرتوں کا خاتمہ ہو، وہیں ہر فرد اور ادارہ اپنے کام سے کام رکھے۔ کوئی کسی کا ابا یا چاچا نہ بنے، اس سے پاکستان اقوام عالم میں باوقار اور مہذب مقام حاصل کر سکتا ہے۔