امریکہ کو انتہائی مطلوب القاعدہ رہنما افغانستان میں ہلاک

  • اتوار 25 / اکتوبر / 2020
  • 4810

افغان فورسز نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے امریکہ کے وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سینئر لیڈر ابو محسن المصری کو ہلاک کر دیا ہے۔

افغانستان کے سیکیورٹی ادارے کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ المصری کو افغان صوبہ غزنی میں ہونے والے خصوصی آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا۔ خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی ادارہ برائے نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم سینٹر کے سربراہ کرس ملر نے بھی المصری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ المصری کی ہلاکت دہشت گرد تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھوں مسلسل نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں المصری پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی فنڈنگ اور وسائل مہیا کرنے کے علاوہ امریکی شہریوں کو ہلاک کرنے کی سازش میں بھی ملوث تھے۔ 'این ڈی ایس' کے مطابق المصری کو القاعدہ کا نائب کمانڈر سمجھا جاتا تھا۔

المصری کی ہلاکت پر تاحال ایف بی آئی کی طرف سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔  امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا گزشتہ ماہ کہنا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ کے لیے کام کرنے والے صرف 200 کے لگ بھگ فعال کارکن رہ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق امریکہ مئی 2021 تک افغانستان سے اپنی باقی ماندہ فورسز کا انخلا کر لے گا۔ طالبان نے بھی معاہدے میں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ افغان سر زمین کو بیرونِ ملک حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور افغانستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں دیگر افغان فریقوں سے مذاکرات کریں گے۔