کراچی سے لاپتا ہونے والے صحافی کی 22 گھنٹے بعد واپسی
- اتوار 25 / اکتوبر / 2020
- 5250
پاکستان کے ایک بڑے نشریاتی ادارے جیو نیوز کے لاپتا ہونے والے رپورٹر علی عمران سید 22 گھنٹے بعد کراچی میں گھر پہنچ گئے ہیں۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق علی عمران سید نے 22 گھنٹے لاپتا رہنے کے بعد اپنی اہلیہ سے رابطہ کیا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے گھر پہنچ گئے ہیں۔ جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید گزشتہ روز کراچی میں گھر کے قریب سے لاپتا ہو گئے تھے۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
علی عمران سید نے چند روز قبل ہی 19 اکتوبر کو کیپٹن صفدر کی کراچی کے ایک نجی ہوٹل سے گرفتاری کی فوٹیج حاصل کر کے اس پر خبر دی تھی۔ اس فوٹیج میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری میں مختلف سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی مبینہ موجودگی واضح ہو رہی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کی فون پر کسی کو معلومات فراہم کرنا بھی نظر آ رہا تھا۔
علی عمران سید کے بھائی طالب سید کے مطابق ان کی گمشدگی کی اطلاع متعلقہ پولیس اسٹیشن سچل تھانے میں کر دی گئی تھی۔ علی عمران سید کے مبینہ اغوا پر چینل انتظامیہ، مختلف صحافتی تنظیموں، پریس کلب اور سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ علی عمران سید کو فوری طور پر پر بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے بیان میں کہا تھا کہ جیو کے رپورٹر علی عمران سید کی گمشدگی انتہائی تشویش ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر علی عمران سید کو بازیاب نہیں کرایا گیا تو معاملہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی میں اٹھایا جائے گا۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے جیو کے رپورٹر کی گمشدگی کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ کی پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) مشتاق مہر کو ان کی فوری بازیابی کا حکم دیا تھا۔ سید مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ صحافیوں کے خلاف اس قسم کی حرکتیں ناقابلِ برداشت ہیں اور اس بات کا سراغ لگا کر بتایا جائے کہ علی عمران سید کہاں گئے؟ انہیں کس نے اٹھایا؟ اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟
پولیس نے علی عمران سید کے اغوا پر ایف آئی آر درج کر لی تھی۔ علی عمران سید کے بھائی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق وہ شام سات بجے کے قریب گھر کے قریب واقع بیکری سے سامان لینے پیدل گئے تھے۔ اس دوران ان کا موبائل فون گھر پر ہی رکھا ہوا تھا۔ لیکن کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی وہ گھر واپس نہ آئے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا رابطہ ہو سکا۔ ایف آئی آر کے مطابق اہلِ خانہ کا شبہ ہے کہ علی عمران سید کو نا معلوم وجوہات پر نا معلوم افراد اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
'ایمنسٹی انٹرنیشنل' سمیت انسانی حقوق کے دیگر اداروں نے علی عمران سید کے مبینہ اغوا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی تھی اور ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ 'انسانی حقوق کمیشن پاکستان' نے بھی علی عمران سید کو بازیاب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا کہنا تھا کہ ملک میں صحافیوں کی گمشدگیاں معمول بنتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور پولیس جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کی بازیابی کے لیے بھرپور کاوش اور تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔