صدر میکرون لوگوں کو تقسیم کرنے کی بجائے انتہا پسندی روکیں: عمران خان

  • اتوار 25 / اکتوبر / 2020
  • 5350

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون تقسیم کے بجائے انتہا پسندی روکیں۔ ایک ٹوئٹ پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لیڈر کی پہچان ہے کہ وہ لوگوں کو متحد کرتا ہے۔

عمران خان نے اپنے بیان میں نیلسن منڈیلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیلسن منڈیلا نے لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا اور اب یہ وہ وقت ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون تقسیم کے بجائے انتہا پسندی روکیں۔ تقسیم بنیاد پرستی کا سبب بنتی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی حوصلہ افزائی سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلام کو سمجھے بغیر نشانہ بنانے سے دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے۔ عمران خان نے کہا کہ جہالت پر مبنی بیانات، نفرت، اسلاموفوبیا اور انتہاپسندی کو فروغ دیں گے۔

خیا ل رہے کہ گزشتہ دنوں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ملک میں خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی کو نجی شعبے میں بھی لاگو کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام ایک مذہب کے طور پر دنیا بھر میں بحران کا شکار ہے۔ اور وہ فرانس کی سیکیولر اقدار کو ’سخت گیر اسلام‘ سے محفوظ بنائیں گے۔

فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ دسمبر میں حکومت 1905 کے سیکولر ریاست سے متعلق منظور کیے گئے قانون کو مضبوط کرنے کے لیے بل لائے گی جوکہ فرانس میں سرکاری طور پر چرچ اور ریاست کو علیحدہ کرتاہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اسکولز پر سخت نگرانی اور مساجد کو ہونے والی غیر ملکی فنڈنگ کو بھی مؤثر طریقے سے کنٹرول کرے گی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی حوصلہ افزائی کرکے اسلام اور ہمارے نبی ﷺ کو ہدف بنایا ہے۔ اس طرح انہوں نے مسلمانوں اور اپنے شہریوں کو جان بوجھ کر مشتعل کرنے کی راہ اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر میکرون  کودوریاں بڑھانے اور ایک خاص گروہ کو دیوار سے لگانے کے بجائے ان کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہئے اور شدت پسندوں کو گنجائش دینے سے انکار کرنا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے فرانسیسی صدر نے تشدد اور دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کی بجائے اسلام پر حملہ کیا ہے اور اسلاموفوبیا کی حوصلہ افزائی کا راستہ چنا ہے۔ اسلام پر اپنے بلا سوچے سمجھے حملے سے صدر میکرون یورپ اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات پر حملہ آور ہوئے ہیں اور انہیں ٹھیس پہنچانے کا سبب بنے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا مزید تقسیم کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ جہالت کی بنیاد پر دیے گئے عوامی بیانات سے مزید نفرت، اسلامو فوبیا اور انتہا پسندوں کے لیے جگہ پیدا ہوگی۔

رواں ماہ فرانس کے ایک اسکول میں ایک استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔ چند روز بعد ایک شخص نے اس استاد کا سر قلم کردیا تھا۔  پولیس نے قاتل کوموقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ اس معاملے کو منظم دہشت گردی قرار دیا گیا تھا۔

فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو 'ہیرو' اور فرانسیسی جمہوری اقدار کا نمائیندہ قرار دیا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔ استاد کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر نے خود شرکت کی۔ اس کے بعد 2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہالز کی عمارتوں پر چارلی ہیبڈو کے گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کی گئی تھی۔

ایک روز قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے فرانسیسی ہم منصب پر مسلمانوں سے متعلق متنازع پالیسیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانسیسی صدر کو اپنا دماغی معائنہ کروانے کی ضرورت ہے۔

مصر کے ممتاز اسلامی ادارے جامعۃ الازہر کے اسکالرز نے بھی فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون کے بیان کو نسل پرستانہ اور نفرت انگیز تقریر قرار دیا تھا۔