فوجی افسر اور سول سرونٹ غیر آئینی احکامات نہ مانیں: نواز شریف

  • اتوار 25 / اکتوبر / 2020
  • 9260

پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تیسرا جلسہ کوئٹہ میں ہؤا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی  تقاریر میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی گئی۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور دیگر رہنماؤں نے جلسہ میں شرکت کی۔  پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اس وقت انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جہاں سے وہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ جلسے میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ، محمود خان اچکزئی، میاں افتخار حسین، مولانا عبدالغفور حیدری، پروفیسر ساجد میر اور دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔

نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ووٹ کی عزت کوئی پامال نہیں کر سکے گا اور کوئی ووٹ کی عزت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ یہ جذبہ میں نے گوجرانوالہ، کراچی اور اب کوئٹہ میں دیکھا ہے۔  اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہم وطن آج بھی اٹھائے جار ہے ہیں۔ کوئی پتا نہیں انہیں آسمان کھا گیا یا زمین نکل گئی۔ دکھی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے کہ کب تک یہ سب ہوتا رہے گا۔ ہماری طاقت اپنوں پر استعمال کی جاتی رہے گی۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں علم ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو کس طرح کے مسائل کا سامنا رہا ہے اور اب وہ کن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آ چکا ہے۔ آٹا، چینی اور روٹی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ نان بائی اب یہ احتجاج کر رہے ہیں کہ روٹی کی قیمت 30 روپے کی جائے۔ اشیائے خوردونوش کے علاوہ دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ غربت میں اضافے کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھتے ہیں مگر انہیں دوائیاں لے کر نہیں دے سکتے۔

پورا ملک کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم ان حالات کی طرف کیسے پہنچیں ہیں۔ کیوں 54 روپے سے چینی 110 روپے کی ہو گی۔ کیوں آٹا اتنا مہنگا ہو گیا اور کیوں اتنی زیادہ مہنگائی ہو گئی ہے۔ کیوں ترقی کرتا ہوا پاکستان آگے بڑھتا ہوا پاکستان برباد کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ کیوں کارخانے لگنا بند ہو گئے ہیں، کیوں موٹر وے بننا بند ہو گئے ہیں، کیوں پاکستان دنیا میں تنہا رہ گیا ہے، کیوں انڈیا کو کشمیر ہڑپ کرنے کی جرات ہوئی، کیوں سعودی عرب جیسا ہمارا دوست ہم سے دور ہو گیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں نواز شریف کیوں پسند نہیں؟ کیونکہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیتا، وہ آپ کا منتخب نمائندہ ہے۔ پھر ایک لاحاصل تفتیش کے بعد فیصلہ ہوا کہ نواز شریف کو نااہل کردو۔  اسے عمر بھر کے لیے نااہل کردو۔ اس کے بھائی شہباز شریف، اس کی بیٹی مریم نواز اور مسلم لیگ کے ساتھیوں کو جیل بھیج دو۔  نواز شریف کو نشان عبرت بناتے بناتے ملک کو عبرت کا نشانہ بنا دیا۔

نواز شریف نے کہا کہ انتخابات سے قبل زبردستی لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کرایا، پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا اور آر ٹی ایس بند کرکے اپنی مرضی کے نتائج جاری کرنا شروع کردیے اور ایک نااہل اور نالائق شخص کو دھانددلی سے وزیر اعظم کی کرسی پر لا بٹھایا۔

کراچی کے جلسے سے گھبرا کر انہوں نے ہوٹل کے کمرے کو توڑا جہاں مریم نواز اور کیپٹن صفدر ٹھہرے ہوئے تھے۔  نہ روایات نہ قدریں، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ایک طرف اعلیٰ اخلاقی قدروں کی بات کرتے ہیں لیکن اب بھی وہ اس حکومت کا حصہ ہیں۔  اس سے میرے بیانے کو مزید تقویت دی کہ ’یہاں ریاست کے اوپر ایک اور ریاست قائم ہو چکی ہے۔‘

انہوں نے پوچھا کہ سیکٹر کمانڈر کون ہے، وہ کس کے حکم پر ایف آئی آر کٹواتا ہے، وہ کس کے حکم پر آئی جی اور ایڈشنل آئی جی کو اغوا کراتا ہے، جس کی خبر خود وزیر اعلیٰ کو بھی نہیں ہے۔  انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اسی نا انصافی کے خلاف اٹھی ہے۔

چند لوگ اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے آئین اور قانون توڑتے ہیں اور خود کو بچانے کے لیے نام فوج کا استعمال کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے فوج کا دور دور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن اس سے بدنامی فوج کی ہوتی ہے۔ اسی لیے میں نام لے کر ان کرداروں کو ظاہر کرتا ہوں تاکہ اس کا دھبہ فوج پر نہ لگے، ملک پر یہ داغ نہ لگے۔

کارگل میں رسوائی کا فیصلہ فوج کا نہیں تھا، چند مفاد پرست جرنیلوں کا تھا۔ میرے بہادر سپاہی دہائیاں دیتے رہے کہ خوراک نہیں تو ان پہاڑیوں پر اسلحہ تو بھجوائیں۔ کارگل آپریشن کے پیچھے وہی کردار تھے جنہوں نے اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لیے 12 اکتوبر کو بغاوت کی اور مارشل لا نافذ کیا۔

میں ان افسران کو بھی بری الذمہ نہیں قرار دے رہا ہوں جنہوں نہ وزیر اعظم ہاؤس کے دیوار پھلانگی۔ یہ اتنے ہی قصور وار ہیں جتنے آرڈر دینے والے۔ انہی لوگوں نے اکبر بگٹی کو شہید کرایا، انہی لوگوں کو بے نظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے چند دن قبل اپنے قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔  یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے 12 مئی کو کراچی میں طاقت کا استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ چند کرداروں نے میری حکومت کے خلاف دھرنے دلوائے۔  اب تمام سوالوں کے جواب قمر جاوید باجوہ کو دینے ہیں، جنرل فیض حمید کو دینا ہے۔  جنرل قمر باجوہ آپ کو دھاندلی اور اس حکومت کی تمام ناکامیوں کا حساب دینا ہے۔ اس قوم کو مہنگائی اور غربت کی طرف دھکیلنے کا حساب دینا ہے۔

جنرل فیض حمید آپ کو جواب دینا ہے کہ کیوں آپ نے ایک جج کے گھر جا کر دباؤ ڈالا۔ کیوں اسے وقت سے پہلے چیف جسٹس بننے کا کہا۔ کیوں آپ نے نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن تک جیل میں رکھنے کا کہا۔ آپ کی کون سی دو سال کی محنت ضائع ہو رہی تھی۔  آپ نے تو آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا تھا۔ آپ نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا حلف اٹھایا تھا پھر کیوں آپ نے ایسا کیا۔

کیا آپ فیض آباد دھرنے کے ذمہ دار نہیں۔ سپریم کورٹ نے آپ کے خلاف کیا فیصلہ دیا۔ اس کے باوجود آپ کو لیفٹیننٹ جنرل کے عظیم الشان عہدے پر ترقی ملی اور آئی ایس آئی کے چیف بنے۔  آپ نے بے دھڑک سیاست میں مداخلت کی۔ اگر یہی توانائی آپ نے اپنے کام پر خرچ کی ہوتی تو ہمارے کشمیری بھائی اس مشکل میں ہی نہ ہوتے جو وہ آج ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان ہمارا مقابلہ تمہارے ساتھ نہیں ہے۔ ہمارا مقابلہ تمہیں لانے والوں سے ہے۔ تمہیں ثاقب نثار کا این آر او نہیں بچا سکے گا۔ تمہاری فارن فنڈنگ کیس جیل بھیجے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ فوجی بھائیو آئین کی تابعداری کا حلف سب سے اہم ہے۔ جہاں آئین شکنی شروع ہوتی ہے وہاں ظلم شروع ہو جاتا ہے۔ اپنے حلف کی پاسداری کیجیے۔ اپنے آپ کو متنازع ہونے سے بچائیے۔ سول سرونٹ کے نام میرا پیغام ہے کہ جس طرح سندھ کے پولیس افسران نے غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کیا اسی طرح میں سب سول سرونٹس کو گزارش کرتا ہوں کہ کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنا فریضہ انجام دینا چائیے۔

تیسرا پیغام میرا عوام کے نام ہے۔ میرے بہنوں اور بھائیو یہ فوج آپ کی ہے، اسے عزت دی جائے۔ مگر جہاں معاملہ آئین کی پاسداری کا آجائے تو پھر کوئی سمجھوتہ نہ کیجیے۔ کوئی فوج اپنے عوام سے نہیں لڑ سکتی۔

مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کے کچھ طلبا جن کو پنجاب کی یونیورسٹیوں میں سکالرشپ دیے انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق مجھے جتنے پنجاب کے طلبا عزیز ہیں اتنے ہی بلوچستان کے طلبا عزیز ہیں۔  

مریم نواز نے لاپتہ افراد کے بارے میں بات کی اور اس طرح جبری گمشدگیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا آج ہی مجھے ایک لڑکی حسیبہ کامرانی نے بتایا کہ ان کے تین جوان بھائیوں کو گھروں سے اٹھا لیا گیا اور تین سال ہو گئے ہیں کہ ان کا کچھ پتا نہیں ہے۔  مریم نواز کا کہنا ہے کہ راتوں رات باپ کے نام سے ایک پارٹی بنائی گئی، اس پارٹی نے ایک بچے کو جنم دیا اور اگلے ہی دن اسے وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا۔

انہوں نے اکبر بگٹی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے شیم شیم کے نعرے بھی لگوائے۔  جب پرویز مشرف کو عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تو وہ عدالت ہی ختم کر دی گئی۔  مریم نواز نے کہا مجھے آج قائد اعظم کو وہ الفاظ یاد آگئے کہ پالیسیاں بنانا آپ کا کام نہیں ہے۔ یہ عوامی نمائندوں کا کام ہے یہ کام انہیں  کرنے دیں۔  قائد اعظم کی روح بھی دیکھ رہی ہے کہ ان کی تلقین کو مٹی میں ملا دیا گیا۔

انہوں نے کسی شخصیت یا ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’اپنے حلف کی پاسداری کرو، سیاست سے دور ہو جاؤ، عوام کے نمائندوں کو حکمرانی کرنے دو، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکے مت ڈالو، حکومت کے اوپر حکومت مت بناؤ۔‘ انہوں نے کہا حاکم کے گریبان پر آپ کا نہیں کسی اور کا ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ آپ کو نہیں کسی اور کو جوابدہ ہوتا ہے۔ اسے ہٹانے اور بٹھانے کا اختیار آپ کے پاس نہیں کسی اور کے پاس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے کہ یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا۔ ججز کے خلاف اس سازش کے بعد عمران خان اور ان کی حکومت کو استعفی دینا چائیے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی انصاف دیجئے۔ جو سچ بولنے کی پاداش میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ تمہاری دو سال کی نہیں 72 سال کی محنت ضائع ہونے کی ہے۔  اب عوام کی حاکمیت کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب اس ملک کے قانون بنائے جارہے تھے اور ہم سے معاہدے کیے جا رہے تھے تو اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ بلوچوں کی تاریخ خون سے لکھی جائے گی بلکہ یہ کہا گیا تھا کہ آپ کو برابری اور عزت سے پیش آیا جائے گا۔

اختر مینگل نے کہا کہ یہاں اب آپ کو اجتماعی قبریں ملیں گی۔ انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کے کیمپ اور ان کی کراچی اور اسلام آباد کی طرف پیدل احتجاجی مارچ کا بھی ذکر کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس داخل کر دیے گئے۔ بھائی ریفرنس کس نے دائر کیا؟ خود کل کی سپریم کورٹ کی ججمنٹ نے اعتراف کیا کہ وہ ریفرنس غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریفرنس داخل کرنے والوں کو بھی تو کوئی سزا ملنی چائیے یا یہ کہ وہ آپ کو نظر نہیں آ رہے ہیں۔ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں جو ایوان صدر میں ہر حکومت کا منشی بن کر بیٹھا ہے۔

ہم نے پاکستان کا قانون نہیں توڑا مگر ان لاپتہ افراد کو آپ دس دس سالوں تک عقوبت خانوں میں رکھا۔ لاپتہ افراد کی بیگمات ہم سے آ کر پوچھتی ہیں کہ کم از کم یہ تو معلوم ہو جائے کہ ہم بیوہ ہیں یا نہیں؟ ان بچوں کا غائب کرنا والا کون ہے؟ بلوچستان میں پانچواں فوجی آپریشن کرنے والا کون ہے؟ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ’سیاست میں مداخلت بھی ہم ہی کرتے ہیں ناں، ڈبے ہم بھرتے ہیں۔‘

ان کے بقول اس صوبے میں راتوں رات پارٹیاں بن جاتی ہیں۔ اب ایک پارٹی بنی جس کا نام باپ ہے۔ پہلے انہوں نے اس پارٹی کا نام پاپ (پاکستان عوامی پارٹی) رکھا تھا پھر کسی نے کہا کہ اس کا مطلب گناہ ہے تو پھر باپ کے نام سے یہ گناہ ہمارے ذمہ لگا دیا۔