رنگیلے شاہ کا ہوائی قلعہ
- تحریر سرور غزالی
- اتوار 25 / اکتوبر / 2020
- 10020
بنی گالہ کو اگر قلعہ معلی سے تشبیہ دی جائے تو چند ایک دوسرے کرداروں کی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ آخری مغل تاجدار کا کردار کون قبول کرے گا۔ حالانکہ اس کا نام تو بہادر ہے مگر تھا وہ بڑا بزدل ورنہ۔۔۔۔ورنہ۔
پھر یہ کہ رنگون کہاں ہوگا اور کمپنی کے صاحب بہادر کا کردار کون ادا کرے گا۔ چلیں ایسا کرتے ہیں بہادر شاہ ظفر کو چھوڑ دیتے ہیں۔ چونکہ ایک تو ان کے زمانے میں جنگ آزادی لڑی گئی تھی۔کم ازکم اتنا تو اچھا تاثر اس نام کے ساتھ ضرور جڑا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ رنگون اب کوئی نہیں جاتا بلکہ رنگون بھیجنے والا خود ہی لوگوں کو لندن بلا کر پاس بٹھا لیتا ہے۔
اور کالا پانی اب بوتلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ تو چلیں ایسا کرتے ہیں بہادر شاہ ظفر سے پہلے آنےوالے کسی باشاہ کا چناؤ کرتے ہیں جس کا قلعہ معلی سے تعلق رہا ہو۔ ایک بادشاہ رنگیلے شاہ نام کا بھی گزرا ہے۔ رنگیلے شاہ اپنے پردادا اورنگزیب کے دور میں ہی پیدا ہوچکے تھے۔ اب ان پر کون سا محاورہ صادق آتا ہے کہا نہیں جاسکتا کہ آیا ولی کے گھر میں شیطان یا فرعون کے گھر موسی ۔ چونکہ یہ دادا کے برعکس موسیقی اور محفل طرب کے رسیا اور نادر شاہ کے میزبان مانے جاتے ہیں۔ جبکہ ان کے پردادا اپنے بھائی داراشکوہ جیسے صاحب علم و دانش اور ادب و ثقافت کو فروغ دینے والے وارث تخت و تاج کو قتل کرکے مسند شاہانہ پر جلوہ افروز ہوئے تھے۔
ان کے پردادا نے اپنے مزید چھ بھائیوں کے سروں کو قلم کرنے کا بھی شرف حاصل کیا تھا اور تب ہی تو ایک ایسی تاریخی شخصیت بن گئے، جن کی خوبیوں کے بیان سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ مگر سلطنت کو جو زک پہنچی تو اس میں نادر شاہ کی میزبانی ان کے پڑپوتے کے ذمہ رہی۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ رنگلیلے شاہ کے پردادا کے پرتو ایک بار پھر تاریخی شکل میں نمودار ہوئے تو اس بار ان کا ایک ایسے جرنیل کی صورت میں ظہور ہوا جس کے ہاتھ میں تلوار نہیں بلکہ وقت نے کوڑا پکڑا دیا تھا۔
اب پھر وقت کا پہیہ گھومتے گھومتے رنگیلے شاہ کے جنم کو دہرا رہا ہے۔ ہماری تاریخ میں رہنے کی عادت نہیں جاسکتی۔ جن قوموں کا حال یہ ہو کہ وہ کامیابی پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہوں، بے تحاشہ ترقی کر رہی ہوں وہ اپنے ماضی سے دراصل صرف اتنا تعلق رکھتی ہیں کہ ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کو دہرانے کی غلطی نہیں کرتیں۔ مگر جن کا صرف ماضی ہی تابناک رہا ہو، وہ ماضی کو کیسے چھوڑ سکتی ہیں وہ ماضی کو اور ان کا ماضی انہیں پکڑے رہتا ہے۔۔۔۔
ہم بھی اپنے اسلاف کی تعریف کو ہی کافی جانتے ہیں۔ ہماری آج کی اس کہانی کا ایک کردار اور ایک اسٹیج تو مل گیا ہے اب ہمیں ایک اور کردار یعنی کمپنی بہادر کے لارڈ ڈلہوزی یاماؤنٹ بیٹن کی تلاش ہے جسے ہم آئندہ پر اٹھارکھتے ہیں۔