عوام اور حکمرانوں کے تعلقات
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 25 / اکتوبر / 2020
- 21580
خُدا اور بندوں کے درمیان ربوبیت کا رشتہ ہے۔ رب جو رب العالمین ہے، تمام مخلوق کو بلا ٹخصیصِ رنگ و نسل و مذہب زمین کی فصلوں، جنگلوں اور باغوں کے پھلوں اور زمین کے معدنیات کے خزانوں کے ذریعے روزگار کے مواقع مہیا کر کے سب کو پالتا ہے۔
وہ پوری کائنات کا حُکمران اور پوری کائنات کی مخلوق کا روزی رساں ہے ، مگر اُس کے بندوں میں سے بعض ایسے غدار اور شیطان کے پیروکار ہیں جو زمین کے وسائل کی تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیتے اور زمین کا نظام درہم برہم کردیتے ہیں حالانکہ زمین کا نظام سب کے لیے رزق کے یکساں وسائل ، یکساں بنیادی حقوق اور انسان کے یکساں مقام و مرتبے کا نظام ہے مگر بندوں نے اس نظام سے انحراف کر کے زمین کو عدم مساوات اور بے انصافی کا دوزخ بنا رکھا ہے۔ حُکمرانی زمین پر ربوبیت کی ارضی صورت ہے ، جس میں حکمرانوں اور عوام دوطرفہ رشتے کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ رب جو اللہ ہے رحمان اور رحیم ہے اوررحمانیت اور رحیمی کی یہی دو صفات ارضی حکمرانوں کو بطور آئینِ ِ حکمرانی عطا کی گئی ہیں۔ رب العالمین کی پرستش کا یہی مطلب ہے کہ اُس کی رب العالمینی کی وہ رٹ قائم کی جائے جو الحمد للہ رب العالمین کے کوڈ میں پنہاں ہے۔ یہی بندگی ہے اور یہی عبادت ہے :
سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں اِک ہے وہی باقی بُتانِ آزری
اقبال
چنانچہ جو حکمران مسلمان ہونے کے باوجود رحمانیت اور رحیمی کے اوصاف کو اپنے طرزِ حُکمرانی کی اساس نہیں بناتے ، وہ راندہ درگاہ ہوتے ہیں۔ مگر وہ مخلوق پر مسلط رہنے اور اپنے تسلط کو طول دینے کے لیے عوام کی خدمت کا راگ اَلاپتے ہیں ، نِت نئے وعدے کرتے ہیں، آئے دن نئے نئے منصوبوں کا افتتاح کرتے ہیں مگر معاشرے کا بگڑا ہوا آوا مسلسل بگاڑ کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ لوگ اس صورتِ حال کے عادی ہو جاتے ہیں اور پھر محرومی اور مظلومیت کے رنگ میں ایسے رنگے جاتے ہیں کہ اس صورتِ حال کو اپنی تقدیر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کتاب اللہ کہتی ہے کہ ان کے دلوں پر قفل پڑے ہیں، اور یہ گونگے اور بہرے لوگ ڈھوروں سے بھی بد تر ہیں۔ ایسے لوگوں کے یہاں تبدیلی کا اسم کھُل جا سِم سِم کا جادو نہیں ہوتا کہ اُس سے معاشرے میں تبدیلی کا دروازہ کھُل جائے ، کیونکہ تبدیلی کا خزانہ ہر شخص کے اپنے نفس میں ہے جس پر مقدر کا قفل پڑا ہے جس کی کلید فرد کے اپنے ہاتھ میں ہے جسے لہرا لہرا کر وہ تبدیلی تبدیلی چیختا ہے ، انقلاب کی دہائی دیتا ہے مگر اپنے اندر لگے قفل کو کھول نہیں پاتا۔ کیونکہ ساحرِ اقتدار نے اُسے پتھر کا بنا دیا ہے۔ اور کتاب اللہ گواہ ہے کہ پتھروں میں ایسے پتھر بھی ہوتے ہیں جن سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں مگر بیشتر پتھر ایسے بد بخت ہوتے ہیں جن سے صرف سر ہی پھوڑا جا سکتا ہے۔
یہ پتھر صرف حکمران طبقے ہی میں نہیں ، عسکری، مذہبی، انتظامی اداروں اور میڈیا کے ملبے پر بھی پڑے ہوتے ہیں۔ یہ پتھر نہ پگھلتے ہیں، نہ ہی موم ہوتے ہیں حالانکہ پتھروں کا موم ہونا اور پگھلنا تبدیلی کا دیباچہ ہوتا ہے لیکن ہمارے یہاں یہ کام بہتر سال میں بھی نہیں ہوسکا۔ ہم نے اپنے جمود کے حق میں کئی جواز اور نظریے گھڑ رکھے ہیں مگر ہم اس حقیقت کو مسلسل نظر انداز کرتے آئے ہیں کہ ہم پر سرمایہ دار اور جاگیردار گھرانوں کی جو مصنوعی جمہوریت مسلط ہے، وہ ہمارے لیے کوئی نیک فال نہیں۔ ہمارے ہاں مروجہ پارٹی سسٹم میں انتخابات نہیں ہوتے، پارٹی لیڈر ووٹ سے منتخب نہیں ہوتا بلکہ گھرانوں کی موروثی روایات کے تحت مسلط کیا جاتا ہے، جس کو فوج، عدلیہ، بیوروکریسی ، مذہبی حلقوں اور زر خرید میڈیا کی سہولت کاری بہم ہوتی ہے ۔ یہ لوگ جب ووٹ کے جھرلو کے ذریعے الیکشن کمیشن کے تعاون سے خُود کو منتخب کرواتے ہیں ، وہ کسی بھی طرح سے بھی عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہوتے مگر اُنہیں بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ حرام کو حلال اور ناجائز کو جائز قرار دینے کا وہ عمل ہے جسے کوئی مذہبی اور اخلاقی روایت جائز قرار نہیں دیتی۔ مگر ہم نہ مذہب کو در خُورِ اعتنا سمجھتے ہیں اور نہ ہی قومی اخلاقیات کو احترام دیتے ہیں ۔ اور اُس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہمارے مفاد پرست ملاؤں نے اپنا ایک متبادل اسلام وضع کر رکھا ہے جو اُن کے مالی مفادات کا امام ضامن ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہر قل اعوذیا خود کو امام رازی اور ابن العربی سمجھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پاکستان کو من حیث القوم اسلامی اخلاقیات سے لیس نہیں کر سکے۔ اور اس مروجہ جہالت کے صدقے ہمارے عہد میں انسانوں کے جسموں میں وحشی درندوں نے قیام کر رکھا ہے جو کمسنوں اور معصوموں کے جسموں کو دن دہاڑے بھنبھوڑتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے سیاسی رہنما نظریات کی بنیاد پر قومیت کی وہ عمارت تعمیر نہیں کرسکے جو ناقابلِ تسخٰیر اور قوم کے لیے باعثِ افتخار ہوتی۔
ہمارے یہاں ہر شے فروختنی ہے۔ تعلیم، طب، عدل اور مذہب سے لے کر صحافت تک چھابڑیوں میں بک رہی ہے۔ اور افسوس اس بات کا ہے کہ کسی کو اس صورتِ حال کا ادراک نہیں۔ ملکی ادارے اپنے اپنے مفادات کی سیاست کرتے ہیں جبکہ رب کی کتاب سے لا یغییر ما بقوم حتیٰ یغییر ما بانفسھم کی صدا آتی رہتی ہے کہ خُدا کسی قوم کی حالت اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ اُس قوم کے لوگ فرداً فرداٍ ً خود کو نہیں بدلتے۔ اور یہ کام ہمارے بس کا نہیں ہے کیونکہ ہم اپنی خواہشاتِ نفس کے بے دام غُلام ہیں اور ہم نے اپنے لیے یہ راستہ رضاکارانہ طور پر خُود ہی چُنا ہے۔