گستاخانہ خاکوں کے معاملہ پر فرانسیسی سفیرکو دفترخارجہ طلب کیا گیا

  • سوموار 26 / اکتوبر / 2020
  • 5940

پاکستان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ’اسلام مخالف‘ بیان پر احتجاج کے لئے فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ طلب کرلیا۔

فرانسیسی سفیر سے اس معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ فرانسیسی سفیر کو اسپیشل سیکریٹری یورپ نے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔ مراسلے میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت علاوہ فرانسیسی صدر کے بیان پر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ اسلام کے خلاف نفرت انگیز بیانیے اور گستاخانہ خاکوں کا نوٹس لے اور مؤثر کارروائی کرے۔ اسلام مخالف بیانیے اور گستاخانہ خاکوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرے۔ آج جو نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں اس کے نتائج شدید ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے غیرذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں ایک جامع قرارداد پیش کی جائے گی۔ اور 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کی تجویز دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جس کی وزیراعظم عمران خان نے نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ اس پر قابو نہ پایا تو معاملات بگڑیں گے۔

عمران خان نے اس سے پہلے فیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے مطالبہ کیا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اسلامو فوبیا پر مبنی مواد پر پابندی لگائی جائے۔ ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم نےکہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلتا ہوا اسلامو فوبیا انتہا پسندی اور تشدد کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔

فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو لکھے گئے خط میں کہا گیاہے کہ اسلامو فوبیا پر مبنی مواد پر اسی طرح پابندی عائد کی جائے جس طرح فیس بک نے ہولو کاسٹ پر عائد کر رکھی ہے۔ فیس بک نے رواں ماہ کہا تھا کہ وہ ہولوکاسٹ سے انکار یا اسے توڑ مروڑ پر پیش کرنے سے متعلق نفرت انگیز بیانات پر پابندی کی پالیسی کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کی حوصلہ افزائی کرکے اسلام اور ہمارے نبی ﷺ کو ہدف بنایا ہے۔ اس طرح مسلمانوں، بشمول اپنے شہریوں کو جان بوجھ کر مشتعل کرنے کی راہ اختیار کی ہے۔

رواں ماہ فرانس کے ایک اسکول میں استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔ چارلی ہیبڈو کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔

ایک نوجوان نے اس  استاد کا سر قلم کردیا تھا۔ پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا۔ فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو ہیرو اور فرانسیسی جمہوریت کا نمائیندہ قرار دیا ہے اور اسے فرانس کا سب سے بڑا شہری اعزاز دیا گیا ہے۔