بھارت، پاکستان میں عدم استحکام کیلئے افغانستان کو استعمال کرے گا: وزیر اعظم
- سوموار 26 / اکتوبر / 2020
- 6040
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے بہت پرانے روابط ہیں اور افغانستان میں جو بھی حکومت ہو گی پاکستان اس کے ساتھ کام کر کے تعلقات مضبوط کرے گا۔
پاکستان افغان تجارت اور سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے افغانستان کے کاروباری برادری کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہمارے روابط صدیوں سے ہیں، افغانستان تقریباً 200 سال تک مغل سلطنت کا حصہ تھا اور موجودہ پنجاب اور خیبر پختونخوا 60-70 سال افغانستان میں درانی سلطنت کا حصہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے افغانستان میں 40 سال سے انتشار کا شکار ہے جس کا افغانستان کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے۔ خصوصاً گزشتہ 18سال کے دوران دہشت گردی کے نام پر بھی جنگ ہوئی، اس سے بھی پاکستان کو افغانستان کے بعد سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔
وزیر اعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت پاکستان سے دشمنی کے لئے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرے گا کیوں کہ وہاں اس وقت انہتہا پسند حکومت قائم ہے جو کسی اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد اور کابل مل کر ان عزائم کو شکست دے سکتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ 40 سال افغانستان میں انتشار کے نتیجے میں ہمارے قبائلی علاقہ جات اور سرحدی علاقوں میں ہونے والی تباہی کا ایک ہی حل ہے کہ ہمارے تعلقات اچھے ہوں، تجارت ہو جس سے لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک میں تجارت کو فروغ دے رہے ہیں۔ افغانستان ہمارا قدرتی پارٹنر ہے اور کوشش ہے کہ افغانستان سے تجارتی تعلقات بڑھائیں اور جیسے جیسے افغانستان میں امن آتا جائے گا۔ اس سے پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
وزیر اعظم نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا خواب ہے کہ یورپی یونین کی طرح ہماری بھی تجارت کے لیے کھلی سرحدیں ہوں اور ہم دعا کرتے ہیں کہ ایک دن ہمارے بھی اس طرح کے تعلقات قائم ہوں۔