پاکستان میں فرانس کے خلاف ایک ہفتہ تک احتجاج کیا جائے گا

  • منگل 27 / اکتوبر / 2020
  • 8860

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی مصنوعات کا استعمال ترک کرنے، تجارتی معاہدے ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اور ایک ہفتہ روزانہ احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سکھر میں نیوز کانفرنس اے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپیل کی کہ عوام فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ کریں اور تاجر برادری اور حکومتی سطح پر فرانس سے کیے گئے معاہدوں کو ختم کیا جائے۔ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کو عمارتوں پر آویزاں کیا گیا تھا۔ فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ وہ خاکے بنانا نہیں چھوڑیں گے جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں ٖشدید غم و غصے کے لہر دوڑ گئی ہے۔

مشرق وسطیٰ سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کا آغاز ہوا، اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی گستاخانہ کے ردِ عمل میں مختلف ہیش ٹیگز ٹرینڈ کررہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ فرانس کے صدر کی ہدایات پر گستاخانہ خاکوں کو سرکاری عمارت پر آویزاں کیا جاتا ہے اور اسے وہ آزادی اظہار رائے سمجھتے ہیں۔ لیکن جس عمل سے کسی کی بھی دل آزاری ہو اسے آزادی اظہار رائے نہیں جرم کہا جاتا ہے۔

مولانا کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر یورپی عدالتوں کے فیصلے اور پارلیمنٹس کی آرا موجود ہیں۔ اس کے باوجود یورپی پارلیمان کا ایک رکن اس قسم کی حرکت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں فرانس کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی اس زمانے میں بانیان میں بدھا کے بت توڑنے کی کوشش کی گئی اور گولے برسائے گئے۔ اس کے بعد میری فرانس کے سفیر سے ملاقات طے تھی جو انہوں نے احتجاجاً منسوخ کردی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ آپ طالبان کی حمایت کرتے ہیں اور انہوں نے ہمارے جذبات کو مجروح کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر بانیان میں بدھا کے مجمسموں پر تمہاری دل آزاری ہوتی ہے اور اس پر ردِ عمل دیتے ہو تو آپ کو دنیا کی ایک چوتھائی سے آبادی سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کیوں نہیں ہے۔اگر ایک فرد جرم کرتا ہے تو اس کو ریاست کنٹرول کرتی ہے لیکن اگر حکمرن خود ایسا اقدام کرے تو وہ دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے اپیل کے کہ فرانس کے پائپ لائن میں موجود معاہدوں کو بھی ختم کیا جائے اور آئندہ ان کے ساتھ کوئی تجارتی روابط نہ رکھے جائیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ہم نبی کریم ﷺ یا کسی بھی نبی برحق کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عجیب یورپ ہے کہ اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیروکار سمجھتے ہیں لیکن اگر ان کی بھی توہین ہوتی ہے تو مسلمان آواز اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ مذہب کے حوالے سے بے حس ہوچکے ہیں اور اپنی بے حسی کو برداشت کا نام دیتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا کہ آئندہ جمعے سے اگلے جمعے تک پورا ہفتہ فرانس میں گستاخانہ معاملوں پر احتجاج کیا جائے گا اور ملک کے ہر حصے میں روزانہ عوام سڑکوں پر آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔