سعودی عرب اور ایران کا فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش پر احتجاج
- منگل 27 / اکتوبر / 2020
- 9760
سعودی عرب اور ایران نے فرانس کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت اور اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مذمت کی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ آزادی اظہار، ثقافت کا احترام، رواداری اور امن کو ایک دائرے میں رہنا چاہیے۔ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ برداشت اور امن کا دامن چھوڑنے سے نفرتیں جنم لیتی ہیں جس سے تشدد اور انتہا پسندی بڑھتی ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل فرانس میں ایک نوجوان نے گستاخانہ خاکے دکھانے پر تاریخ کے ایک استاد کا سر قلم کر دیا تھا۔ اس قتل کے خلاف فرانس میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا۔ فرانسیسی صدر نے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس میں بنیاد پرست مسلمانوں کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر کے بیان اور پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلم دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمان نے بھی ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے جس میں حکومت سے فوری طور پر فرانس سے اپنا سفیر واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سعودی عرب میں فرانسیسی سپر مارکیٹ چین 'کار فور' کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر مقبول ہے۔ تاہم 'کار فور' کے فرانس میں نمائندے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کا اب تک کوئی اثر محسوس نہیں ہوا ہے۔ کویت کی بعض سپر مارکیٹس نے کارپوریٹ یونینز کی ہدایات کے بعد فرانسیسی مصنوعات اٹھا لی ہیں۔
ایران کے وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے حکام نے فرانسیسی سفیر سے کہا ہے کہ پیغمبرِ اسلام اور اسلام کی اقدار کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔