کشمیر پر بھارتی قبضہ کے خلاف یوم سیاہ
- منگل 27 / اکتوبر / 2020
- 6010
پاکستان سمیت لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دیگر ممالک میں بسنے والے کشمیری آج وادی پر بھارتی فورسز کے قبضے کے خلاف یوم سیاہ منا رہے ہیں۔
27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے برصغیر کی تقسیم سے متعلق منصوبے اور کشمیریوں کی خواہش کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر جابرانہ قبضہ کیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے پر مجبور کیا جائے۔
یوم سیاہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کشمیر کے عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کو دوہرایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر مین مظالم سے آگاہ ہے۔ 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی یک طرفہ کارروائی، فوجی محاصرے اور مواصلاتی روابط کی بندش جیسے غیر قانونی اقدامات نے مودی حکومت کی ہندو ناتہا پسندی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔ یہ تمام رکن ممالک کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری پر مجبور کریں۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ بھارت کو خطے میں عدم استحکام کے لیے ریاستی دہشت گردی کے استعمال سے روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
یوم سیاہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت عارف علوی نے کشمیری عوام کی حق پرست جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر انسانی اقدامات، وحشیانہ جبر نے ہندوتوا نظریے کی پیروکار آر ایس ایس، بی جے پی حکومت کا انتہا پسندانہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ 73 سال قبل آج کے دن بھارتی فوج بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سری نگر میں اتری اور گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت اور اس کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا قدم اٹھایا۔ بھارت کے اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہیں۔ انہیں کشمیری عوام، پاکستان اور عالمی برادری نے مسترد کردیا ہے۔