پشاور مدرسے میں دھماکا سے8 افراد جاں بحق، 70 سے زیادہ زخمی

  • منگل 27 / اکتوبر / 2020
  • 6110

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے ایک مدرسے میں دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق اور 70 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ دیر کالونی میں ایک مسجد و مدرسہ کے احاطے میں دھماکا کے وقت  طلبہ  کو پڑھایا جارہا تھا۔

دھماکے کے بعد مسجد کو شدید نقصان پہنچا جب کہ زخمیوں اور لاشوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔  وزیرِ صحت تیمور سلیم جھگڑا نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں آٹھ اموات ہوئی ہیں جب کہ 72 زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔  زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پولیس حکام نے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ دھماکا دیر کالونی کی مسجد میں اُس وقت ہوا جب لوگ نمازِ فجر کے بعد درس کے لیے جمع تھے۔ اب تک دھماکے کی نوعیت کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا البتہ عینی شاہدین کے مطابق یہ ایک دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق درس کے دوران ایک شخص مبینہ طور پر آکر ایک بیگ مسجد کے احاطے میں رکھ کر فرار ہو گیا تھا جس کے بعد زور دار دھماکا ہوا۔  دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اور مختلف فلاحی تنظیموں کے رضاکار موقع پر پہنچے جس کے بعد زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔

سینئر پولیس عہدیدار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مدرسے میں دھماکا اس وقت ہوا جب قرآن پاک کی کلاس جاری تھی اور کوئی فرد مدرسے میں بیگ رکھ کر چلا گیا۔ زخمی ہونے والوں میں 2 استاد بھی شامل ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ دیر کالونی میں دھماکے کے بعد 7 لاشوں اور 70 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بعدازاں انہوں نے بتایا کہ ایک اور فرد دوران علاج چل بسا۔

دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں 4 طالبعلم بھی تھے جن کی عمریں 15 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہیں تاہم زیادہ تر زخمی جھلسے ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق زخمیوں کو خیبر ٹیچنک ہسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور نصیر اللہ خان بابر ہسپتال بھی منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بھی جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت توجہ زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے پر ہے تاکہ وہ جلد از جلد ٹھیک ہوسکیں۔

پشاور میں دھماکے پر وزیراعظم سمیت سیاسی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔ ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کی اور دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے لکھا کہ پشاور مدرسے میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں، تعلیم و تدریس حاصل کرنے والے طلبہ پرحملہ کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کے مذموم عزائم خاک میں ملائیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ پشاور مدرسے میں دھماکا دل دہلا دینے والا واقع ہے۔ بالخصوص بچوں کو ہونے والے نقصان نے انتہائی رنجیدہ کردیا ہے۔ جن ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، ان کے دکھ کا تصور اور ازالہ ممکن نہیں۔