بیلاروس اور پاکستان میں عوامی احتجاج کی قدر مشترک

بیلا روس میں بھی پاکستان کی طرح کئی ہفتوں سے حزب اختلاف پارٹیاں حکومت اور اس کے سربراہ لوکا شینکوس کے خلاف ایک زبردست مہم چلارہی ہیں۔  یہ تحریک بھی  پاکستان مین اپوزیشن کے احتجاج کی طرح ہے جہاں حزب اختلاف ایک نئی قوت سے مہنگائی اور دیگر مسائل کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔

 بیلاروس میں مزاحمتی لہر کی سربراہی ایک سوتلانہ شیانوسکاجا نامی خاتون کر رہی ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان اور بیلا روس کے حالات خاصے ملتے جلتے دکھائی دیتے ہیں۔ بیلا روس، کبھی سویت یونین کا حصہ رہ چکا ہے اور سویت یونین کے غیر جمہوری اور آزادی اظہار کے حق سے مبرا طرز حکومت سے اب تک نجات نہیں پاسکا۔ جس طرح پاکستان اپنی آزادی کے ستر سال کے بعد بھی، رائے کی آزادی کے حق کو ترس رہا ہے۔ اور جمہوریت، امن و خوشحالی کی راہ دیکھ رہا ہے۔  جس طرح پاکستان میں جمہوریت کی راہیں ہموار کرنے اور عوامی حقوق کی بحالی کے لیے اٹھنے والی تحریکوں کو کبھی طاقت کے زور پر دبا گیا تو کبھی مختلف طرح کی عصبیت پسندی میں الجھا دیا گیا، بالکل اسی طرح بیلا روس میں بھی ایسی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

پاکستان میں اپوزیشن کی تحریک ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن آغاز ہی سے جو گرمجوشی تحریک کے سربراہان دکھا رہے ہیں اور جس جوش وخروش سے عوام اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں، اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ تحریک کافی دور تک جائے گی۔  احتجاج کی نئی لہر کی چند خاص باتیں اسے پچھلی تمام تحریکوں سے منفرد بناتی ہے۔ اور کامیابی کے نئے دروازے کھولتے دکھائی دیتی ہے۔ اس تحریک کا حصہ صرف نوجوان اور کم تجربہ کار سیاستدان ہی نہیں بلکہ تجربہ کار سیاستداں بھی اس میں شامل ہیں۔ جہاں نوجوان اور نئے سیاستدانوں کا بےداغ ماضی اسے نوجوانوں میں مقبولیت بخش دے گا، وہیں اس کے تجرکار سیاستدانوں کی رہنمائی اسے کامیابی کے گر سے آشنا کرے گی۔

پاکستان کی اس نئی تحریک کی سب سے اہم اور حکمرانوں کی تشویش کا باعث، اس میں صوبہ پنجاب کے نوجوان اور تجربکار سیاستدانوں کی شرکت ہے۔ اب تک طالع آزما غیر مرئی قوتیں، صوبوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دے کر ایسی تحریکوں کو گمراہ کرکے ناکام بنانے کے کئی کامیاب کوششیں کر چکی ہیں۔ مگر کب تک عوام  دھوکہ کھاتے رہتے۔ اب تو سارے یکے کھل چکے ہیں۔ اس تحریک کی دوسری خاص بات کوئٹہ کے جلسے میں سامنے آگئی ہے یعنی بلوچستان سمیت سارے صوبے اس تحریک کا حصہ بن چکے ہیں۔ کاش سن ستر میں ایسی ہی کوئی زوردار تحریک چلتی اور اس وقت کی نااہل حکومت کو چلتا کرنے کی سعی کرتی تو شاید صورتحال کچھ مختلف ہوتی۔

مگر اب بھی وقت ہے۔ اور بلوچستان کی اس تحریک میں شرکت اور  سب صوبوں کے عوام کے ایک جیسے مسائل  پر متھد ہوکر نبرد آزما ہونے کی کوشش خوش آئیند ہے۔  اس جوش و جذبے کو سلجھے انداز سے، تحمل اور برداشت سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی موقع پر اس میں کسی قسم کا سودا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ بالکل اسی طرح جیسے بیلا روس میں ایک تحریک چل رہی ہے۔ ایسی تحریکوں میں صبر اور وقت کا انتظار سب سے اہم جز ہے۔  نت نئی تراکیب کے ذریعہ حکومت وقت کو زیر کرنا اصل کام ہوتا ہے۔

بیلاروس میں چلنے والی حزب اختلاف کی طویل الوقت تحریک، پاکستان کی حزب اختلاف کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کے لیے ایک مشعل راہ ہو سکتی ہے۔  وہاں حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ عوام کی اکثریت ہرروز ایک نئے اور اپنے اچھوتے طریقہ احتجاج سے نہ صرف طالع آزما سربراہ حکومت کوزچ کرنے کاسبب بن رہی بلکہ دنیا کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا رہی ہے۔ اس تحریک کے دوران یورپی ممالک کا رویہ بھی بیلاروسی تحریک کی حمایت میں بہت اہم ہے۔ کسی بھی ملک کو مجموعی طور ہر معاشی پابندیوں کی سزا دینے کا نتیجہ اس ملک کی معیشت کو تباہ کرتا ہے براہ راست اس ملک کے عوام کو غربت سے دوچار کرنے ہی کی صورت میں ظہور پذیر ہوا ہے۔  اس سے ملک کی وہ قوتیں جنہیں اپنے کیے کی سزا ملنی چاہیے، وہ بچی رہتی ہیں۔

 اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یورپی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ بیلا روس کے ایسے سرکردہ، عوام مخالفت میں ملوث اور عوام کی خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بنے سیاستدانوں، فوجی افسروں اور سرکاری اہکاروں کے غیر ملکی اثاثے منجمد کردیے جائیں۔ اور انہیں بیلک لسٹ کرکے ان کے یورپ اور دیگر ممالک کے سفر پر پابندی عائد کی جائے۔ ایسے ہی اقدامات پاکستان اور ان جیسے ملکوں میں چلنے والی تحریکوں کی حمایت میں ہونے چاہئیں۔ پاکستان میں ایسی تحریکوں کوہمیشہ ہی عوام کی تائید حاصل رہی ہے۔ تاہم  چند بڑے خواہ وہ صحافت کے پیشے سے  ہوں، سیاست سے یا کسی اور محکمے سے منسلک ہوں، ایسی تحریکوں کو غیر ضروری گردانتے ہیں۔ عوام کو جاننا چاہیے کہ احتجاج ان کا بنیادی حق ہے۔  امن و خوشحالی کے لیے ہر لمحے حساس رہنا ان کا فرض ہے۔ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے۔