فضائی آلودگی ترقی پذیر ممالک میں اموات کی بڑی وجہ ہے
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- بدھ 28 / اکتوبر / 2020
- 6320
انسانی صحت پر کام کرنے والے اداروں اور یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے ماہرین نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں فضائی آلودگی اور اس کے اثرات سے نومولود بچوں کی شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہؤا ہے۔ یہ بزرگ شہریوں کی ہلاکت کا باعث بن رہی ہے۔
حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث پھیپھڑوں کے امراض، سانس لینے کے عمل میں انفیکشن، کینسر، ذیابیطس، دل کے مختلف امراض اور نوزائیدہ بچوں کی اموات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اندازے کے مطابق سال 2019 میں 66 لاکھ سے زائد افراد فضا میں پائی جانے والی آلودگی کے باعث ہلاک ہوئے جو کل اموات کا 12 فی صد ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس سائنس دانوں نے فضائی آلودگی کو دنیا میں جلد اموات کا پانچواں بڑا سبب قرار دیا تھا جو اب وقت سے پہلے اموات کی چار بڑی وجوہات میں شامل ہو گیا ہے۔ اس فہرست میں فضائی آلودگی سے بھی زیادہ قبل از وقت اموات کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی اور بہتر غذا نہ ہونا شامل ہیں۔
رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ وہ خواتین جو فضائی آلودگی کا دائمی شکار ہوتی ہیں ان کے ہاں اکثر کم وزن یا وقت سے پہلے بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ ایسے بچے صحت کے مختلف معاملات پر زیادہ رسک پر ہوتے ہیں جس کا عکس اس حقیقت میں بھی نظر آتا ہے کہ اکثر ایسے بچے پیدائش کے پہلے مہینے ہی میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
اسٹیٹ آف گلوبل ایئر 2020 رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ترقی پذیر ممالک میں صاف ہوا کا معیار سب سے کم ہے جس کی وجہ سے ان ممالک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ جن ممالک میں کھانے پکانے اور دیگر گھریلو کاموں کے لیے بڑے پیمانے پر ایندھن کے ٹھوس لکڑی یا کوئیلہ استعمال کیے جاتے ہیں وہاں آلودگی کی شرح زیادہ پائی گئی۔ ایسے ممالک میں سے بیشتر ایشیا اور افریقہ میں ہیں۔
وسطی جمہوریہ افریقہ، جنوبی سوڈان، برونڈی، مالی، یوگنڈا، تنزانیہ، مڈغاسکر اور روانڈا جیسے ممالک میں آبادی کے 97 فی صد شہری کھانا پکانے کے لیے ایسے ٹھوس ایندھن کے ذرائع استعمال کرتے ہیں جو ان ممالک میں فضائی آلودگی کی بڑی وجہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرہ ارض پر موجود اوزون کی تہہ میں شگاف کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں میں کئی گنا تیزی دیکھی گئی ہے۔ جس کے اثرات انسانی صحت، غذائی فصلوں اور سبزیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ مختلف انسانی سرگرمیوں مثلاً گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں، پاور پلانٹس سے گیسوں کے اخراج، صنعتی بوائلرز اور دیگر ذرائع سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور دوسرے نامیاتی مرکبات نکلتے ہیں جس سے اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ گزشتہ 100 سالوں کے دوران اس میں پڑنے والے شگاف میں مختلف مقامات پر 30 سے 70 فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بعض ممالک کی جانب سے اس ضمن میں کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے ملک بھارت نے 2019 میں صاف ہوا کا قومی پروگرام شروع کیا تھا۔ لیکن اس کا قانونی مینڈیٹ نہ ہونے اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس پر کافی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اپریل 2020 میں بھارت کی جانب سے گاڑیوں کے دھوئیں سے اخراج سے متعلق نئے معیار متعارف کرائے گئے جس کے فوائد آئندہ چند سالوں میں نظر آنے کے امکانات ہیں لیکن کورونا وبا کی وجہ سے اس منصوبے پر بھی عمل درآمد میں تاخیر ہورہی ہے۔
پاکستان میں فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے منظم قومی ایکشن پلان کی کمی نظر آتی ہے حالاں کہ پاکستان میں ایئر کوالٹی سے متعلق قوانین میں اسے بڑے بہتر انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم پر اینٹوں کے بھٹوں، زرعی فضلہ جلانے اور صنعتوں سے خارج ہونے والی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بعض اقدامات کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب گاڑیوں کے دھوئیں کے اخراج کے لیے اب تک پرانی ٹیکنالوجی پر انحصار اور چھوٹی، غیر رسمی صنعتوں سے آلودگی کے اخراج کو اب تک ریگولیٹ نہیں کیا گیا۔
بنگلہ دیش کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019 میں کلین ایئر بل منظور کیے جانے کے بعد صاف ہوا اور پائیدار ماحولیاتی ترقی کے لیے کئی اقدامات کیے جارہے ہیں جن میں اینٹوں کے بھٹوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں آلودگی میں کمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات اہم ہیں۔
کورونا وبا کی وجہ سے دنیا بھر اور مقامی سطح پر بھی آمدورفت، تعلیمی اداروں کی بندش اور کاروبار کے ساتھ بڑی صنعتی سرگرمیوں میں ڈرامائی کمی دیکھی گئی۔ ان عوامل کی وجہ سے کئی ممالک میں ہوا کے معیار میں قدرے بہتری دیکھنے میں آئی۔ کئی ممالک میں ایک عرصے کے بعد صاف نیلا آسمان اور ستاروں بھری راتیں دیکھنے کا موقع ملا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں عارضی ثابت ہوں گی۔ کورونا کی وبا کے باعث لگنے والی پابندیاں ہٹنے کے بعد آلودگی دوبارہ بڑھنے سے یہ کامیابیاں تیزی سے کم ہو جائیں گی۔ اس طرح کورونا کی وبا فضائی آلودگی کے خلاف ایک عارضی مہلت ہی ثابت ہو گی۔ لیکن صاف ہوا کے باعث نیلگوں آسمان کے نظارے ایک بار پھر اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ آلودگی نے ہم سے کیا کچھ چھین لیا ہے۔