پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کے پیشِ نظر ماسک پہننا لازمی ہوگا
- بدھ 28 / اکتوبر / 2020
- 6730
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر گھروں سے باہر نکلنے والے تمام شہریوں کے لیے ماسک پہننا لازم قرار دیا ہے۔
یہ اعلان وائرس کی دوسری لہر کے پیش نطر کیا گیا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں این سی او سی کے اجلاس میں دوسری لہر پر حکمت عملی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ، سیکریٹری صحت سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔ چاروں صوبوں کے نمائندوں نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔
این سی او سی میں تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز رپورٹ ہونے کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری اور نجی دونوں طرح کے دفاتر میں ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ بیان کے مطابق تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوام میں فیس ماسکس پہننے اور بازاروں، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ اور ریسٹورنٹس میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
وزارت قومی صحت کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 825 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 14 مریض انتقال کر گئے۔ایک ٹوئٹر پیغام میں وزارت صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں 70 فیصد مرد ہیں جن کی اکثریت تلاش معاش کے لئے باہر نکلتی ہے۔
پیغام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جب بھی گھروں سے باہر جائیں ماسک لازمی پہنیں تاکہ آپ اور آپ کے پیارے اس بیماری سے محفوظ رہیں۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے اور پابندیوں میں مزید سختی ناگزیر ہے۔