صدر اردوان کا خاکہ شائع ہونے پر ترکی اور فرانس میں شدید تلخی
- بدھ 28 / اکتوبر / 2020
- 6730
ترکی نے کہا ہے کہ فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے سرِ ورق پر صدر رجب طیب اردوان کے کارٹون شائع کرنے کے خلاف تمام قانونی و سفارتی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
ترکی کے کمیونی کیشن ڈائریکٹر نے بدھ کو ایک بیان میں صدر اردوان کے کارٹون شائع کرنے کو قابلِ نفرت اقدام قرار دیا ہے اور کہا کہ فرانسیسی جریدہ ثفاقتی تعصب اور نفرت کو فروغ دے رہا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ ہماری جنگ اس بدتمیزی کے خلاف ہے اور یہ جنگ مذموم اور توہین آمیز اقدامات کے اختتام تک جاری رہے گی۔
ترکی کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ترک پراسیکیوٹر نے چارلی ہیبڈو کے اعلیٰ افسران کے خلاف تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔ ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کالن نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہم اپنے صدر کی توہین کرنے پر فرانسیسی میگزین کی شدید مذمت کرتے ہیں جسے کسی کے عقائد، اقدار اور تقدس کا کوئی لحاظ نہیں۔
ترجمان نے فرانسیسی جریدے سے متعلق کہا کہ وہ صرف بے حیائی اور بدتہذہبی دکھا رہا ہے، کسی کی ذات پر حملہ ہر گز اظہارِ رائے کی آزادی نہیں ہے۔ فرانسیسی جریدے نے بدھ کو اپنے سرِ ورق پر ترک صدر کو توہین انداز میں پیش کیا ہے۔
ترکی کے نائب صدر نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں فرانسیسی جریدے کے خاکے کی مذمت کی اور کہا کہ آپ آزادی رائے کے پیچھے چھپ کر کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خاکوں کی اشاعت کی اخلاق سے گری حرکت کے خلاف آواز اٹھائیں۔
واضح رہے کہ فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیانات اور خاکوں کے دفاع کے خلاف مسلم ملکوں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کئی اسلامی ملکوں میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا جا رہا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم میں پیش پیش ہیں اور انہوں نے اس کا اعلان بھی کیا تھا۔ ترک صدر کی جانب سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ مہم کے اعلان کے بعد فرانس نے یورپی یونین کے اتحادیوں سے ترکی کے خلاف اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔