فرانسیسی صدر کے بیان پر متعدد مسلمان ملکوں میں احتجاج اور غصہ

  • بدھ 28 / اکتوبر / 2020
  • 5680

فرانسیسی صدر میکرون کے حالیہ بیانات اور گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کے خلاف ترکی، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت کئی مسلمان ممالک میں شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔

فرانسیسی صدر میکرون کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا میں فرانسسیسی اشیا کا بائیکاٹ کرنے کی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ صدر میکرون نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا تھا جب فرانس میں سیموئل پیٹی نامی ایک استاد نے طلبہ کو پیغمبرِ اسلام سے متعلق خاکے دکھائے تھے جس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ میکرون کا کہنا تھا کہ ہم ان خاکوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

صدر میکرون کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلام پوری دنیا میں 'بحران کا مذہب' بن گیا ہے اور ان کی حکومت دسمبر میں مذہب اور ریاست کو الگ کرنے والے 1905 کے قوانین کو مزید مضبوط کرے گی۔  فرانس کی حکومت نے پیرس میں اس مسجد کو بھی بند کر نے کا حکم دیا ہے جہاں سے جمعے کو ہلاک کیے جانے والے استاد سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھیں۔

ترکی کے صدر طیب اردوان اس تنازعے میں پیش پیش ہیں اور انہوں نے ٹی وی پر ایک حالیہ تقریر میں فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔  اورکہا کہ مسلمانوں کے خلاف اب ایسی مہم چلائی جا رہی ہے جو کہ دوسری جنگِ عظیم میں یہودیوں کے خلاف یورپ میں چلائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا فرانسیسی صدر اپنی نفرت انگیز مہم بند کریں۔

پاکستان کے کئی شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں صدر میکرون کے پوسٹرز جلائے جارہے ہیں اور سوشل میڈیا پر فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ پاکستانی ٹویٹر پر گذشتہ 48 گھنٹوں سے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے متعدد ٹرینڈ کرتے نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کی موثر نمائندگی کے لیے ہر دستیاب فورم استعمال کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔

پاکستان کے دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی صدر میکرون پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ 'مذہبی آزادی' کی عزت نہیں کرتے اور ان کے باعث فرانس کے لاکھوں مسلمان پسماندگی کا شکار ہو گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کیے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھاکہ فرانس کی جانب سے سخت گیر اسلامی عناصر کے خلاف موقف اپنانے پر فرانسیسی اشیا کا بائیکاٹ کیا جائے۔ مظاہرین نے صدر میکرون کا پتلا بھی جلایا۔ تاہم مقامی پولیس نے مظاہرین کو فرانسیسی سفارتخانے تک پہنچنے نہیں دیا۔

ترکی، پاکستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ ایران، اردن اور کویت ان اسلامی ممالک میں شامل ہیں جن میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز خاکوں اور صدر میکرون کے بیان پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔  قطر میں ایک بڑی تجارتی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں اپنی دکانوں سے فرانسیسی مصنوعات کو ہٹا رہے ہیں۔  قطر یونیورسٹی میں فرینچ کلچرل ویک بھی ملتوی کردیا گیا ہے۔

فرانس کے صدر کے بیانات کے بعد لیبیا، شام اور غزہ کی پٹی پر احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب میں فرانسیسی سپرمارکیٹ چین کیریفور کے بائیکاٹ سے متعلق ہیش ٹیگ دوسرے نمبر پر ٹرینڈ کرتا رہا۔