ابھی نندن کی رہائی سے متعلق آئی ایس پی آر کی وض

  • جمعرات 29 / اکتوبر / 2020
  • 5310

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر ایاز صادق کے بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارتی حملہ کا بروقت جواب دے کر اپنی صلاحیت کو دنیا بھر سے تسلیم کروایا تھا۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ   کا کہنا ہے کہ بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کہ بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ جس کا بھرپور جواب دیا گیا۔  راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا ریکارڈ کی درستگی کے لیے بات کرنا چاہتا ہوں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کل ایک ایسا بیان دیا گیا جس میں قومی سلامتی سے متعلق معاملات کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ پلوامہ واقعہ کے بعد 26 فروری 2019 کو بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی۔ دشمن جو بارود پاکستان کے عوام پر گرانے آیا تھا وہ خالی پہاڑوں پر پھینک گیا۔  اسے نہ صرف انہیں منہ کی کھانی پڑی بلکہ پوری دنیا میں خفت کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے بروقت جواب نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔  افواج پاکستان نے قوم کے عزم و حمیت کے عین مطابق دشمن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے بھارت کو دن کی روشنی میں جواب دیا۔ بھارت کے دو جنگی جہاز مار گرائے۔

انہوں نے کہا ونگ کمانڈ ابھی نندن کو گرفتار کرلیا گیا اور دشمن ساری کارروائی کے دوران اتنا خوفزدہ ہوا کہ بدحواسی اور عجلت میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر اور جوانوں کو مار گرایا اور اللہ کی نصرت سے ہمیں دشمن کے خلاف واضح برتری حاصل ہوئی۔  اس کامیابی سے ناصرف بھارت کی قلعی دنیا کے سامنے کھل گئی بلکہ پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا اور مسلح افواج سرخرو ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان ذمہ داری ریاست ہونے کے ناطے بھارتی جنگی قیدی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔  اس فیصلے کو پوری دنیا نے لائق تحسین قرار دیا۔  انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ میں تاریخ کی درستی کے لیے واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پاکستان نے پہلے اپنی صلاحیت اور تحمل کا مظاہرہ کیا اور یہ فیصلہ تمام جنگی آپشنز کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور افواج پاکستان ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار تھیں۔ جنگی قیدی ابھی نندن کی رہائی کو ایک ذمہ دار ریاست کے ذمہ دارانہ ردعمل کے علاوہ کسی اور چیز سے جوڑنا انتہائی افسوسناک اور گمراہ کن ہے۔  یہ پاکستانی قوم کی بھارت پر واضح برتری اور فتح کو متنازع بنانے کے مترادف ہے اور یہ چیز کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ایسے منفی بیانیے کے براہ راست قومی سلامتی پر اثرات پڑتے ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ان چیزوں کا دشمن انفارمیشن ڈومین میں بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔  یہ بیانیہ بھارت کی شکست اور ہزیمت کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں جب دشمن قوتیں پاکستان پر ہائی بریڈ وار مسلط کرچکی ہیں ہم سب کو انتہائی ذمہ داری سے آگے بڑھنا ہوگا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افواج پاکستان خطے کی سیکیورٹی اور صورتحال پر مکمل نظر رکھےہوئے ہے اور اندورنی اور بیرونی حالات سے آگاہ ہے بلکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ قوم کی مدد سے پاکستان کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائیں گے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے گھٹنے ٹیک کر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واپس بھارت بھیجا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس میں وزیر اعظم نے آنے سے انکار کردیا تھا مگر آرمی چیف اس میں شریک تھے۔ پسینے میں شرابور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ خدا کے واسطے ابھی نندن کو واپس جانے دیں ورنہ بھارت آج رات 9 بجے حملہ کر رہا ہے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی کے بیان پر بھارتی میڈیا نے خوب واویلا مچایا اور بھارتی پائلٹ کی رہائی کو اپنی فتح سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے ایاز صادق کے اس بیان پر شدید ردِ عمل دیا اور ان کے خلاف ہیش ٹیگز ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہے۔

ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا اشارہ سول لیڈر شپ کی کمزوری کی جانب تھا، بھارتی میڈیا بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے۔ پارٹی ترجمان کی جانب سے جاری وضاحتی ویڈیو میں ایاز صادق نے بھارتی پائلٹ کی رہائی سے متعلق بیان کے حوالے سے کہا کہ ابھی نندن کو چھوڑنے کے حوالے سے وزیر اعظم نے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بلایا تھا۔

پارلیمانی لیڈروں کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بریفنگ دی، عمران خان کے پاس اتنی ہمت نہیں تھی۔ ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور ماتھے پر پسینہ تھا۔

ایاز صادق کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے پارلیمنٹ میں بیان کو حقیقت کے برعکس قرار دیا ہے۔