فرانس: دہشت گرد حملہ میں 3 افراد قتل، جدہ میں فرانسیسی اہلکار پر حملہ
- جمعرات 29 / اکتوبر / 2020
- 5790
فرانس کے شہر نیس میں چاقو بردار حملہ آور نے ایک چرچ مین حملہ کرکے تین افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ ان میں سے ایک خاتون کا سر قلم کر دیا گیا۔ پولیس نے حملہ آور کو زخمی حالت مین گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ جمعرات کی صبح تقریباً نو بجے نیس شہر میں نوٹرڈیم چرچ کے قریب پیش آیا۔ شہر کے میئر کرسچن ایستوزی نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ کرسچن ایستوزی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ نوٹرڈیم چرچ کے اندر یا چرچ کے قریب چاقو کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے۔
میئر کا کہنا تھا کہ پولیس نے جب حملہ آور کو گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگائیں تو وہ بلند آواز سے مستقل اللہ اکبر کہتا رہا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون کا سر ان کے تن سے الگ کیا گیا ہے۔ البتہ انہوں نے مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں تین افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جب کہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
فرانس میں یہ واقعہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب رواں ماہ ہی فرانس میں 18 سالہ نوجوان نے تاریخ کے استاد کا سر قلم کر دیا تھا۔ سیمیول پیٹی نامی استاد نے کلاس کے دوران طلبہ کو گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔ 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو ہونے والے حملے میں بھی حملہ آور نے ایک خاتون کا سر قلم کیا ہے جب کہ پولیس ذرائع بھی اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔
فرانس کے انسدادِ دہشت گردی کے پراسیکیوٹر نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد پولیس نے چرچ اور اس کے قریبی علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ چرچ شہر کے مرکزی کاروباری علاقے کے قریب واقع ہے۔ واقعے کے بعد ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی جائے وقوعہ پر پہنچیں اور سیکیورٹی فورسز نے چرچ کا محاصرہ کرتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
اس دوران موصول ہونے والی خبروں کے مطابق فرانس ہی کے ایک شہر میں چاقو سے مسلح ایک شخص نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا لین پولیس نے اسے موقع پر ہی ہلاک کردیا۔ جدہ سے ملنے والی اطلعات کے مطابق ایک سعودی شہری نے فرانسیسی قونصل خانہ کے ایک اہلکار پر حملہ کرکے اسے زخمی کردیا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں بھی نیس روانہ ہو گئے ہیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ حالیہ حملے کی وجوہات کیا ہیں۔ نیس میں 2016 میں دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی میں ایک ٹرک ڈرائیور نے ایک تہوار کے دوران شہریوں پر ٹرک چڑھا دیا۔ اس واقعے میں 86 افراد ہلاک اور 458 زخمی ہوئے تھے۔
اد رہے کہ فرانسیسی صدر نے حال ہی میں سیمیول پیٹی نامی استاد کے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کا دفاع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس میں بنیاد پرست مسلمانوں کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر کے بیان اور پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلم دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمان نے بھی ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے جس میں حکومت سے فوری طور پر فرانس سے اپنا سفیر واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں فرانسیسی سپر مارکیٹ چین 'کار فور' کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر مقبول ہوا ہے۔