سوشل میڈیا کمپنیوں کی متضاد پالیسیاں
- تحریر سلمان یونس
- جمعرات 29 / اکتوبر / 2020
- 5850
امریکہ میں الیکشن سر پر ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے آن لائن اور سوشل میڈیا کی اہمیت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا کے بڑے نام ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل پر بھی کڑا وقت ٓایا ہوا ہے ۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کمیونیکشن ایکٹ کی دفعہ 230 میں تبدیلی لانے کے بل پر غور کر رہی ہے۔ دفعہ 230 ٹویٹر اور دیگر آن لائن پبلشرز کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ مواد کو سینسر کر سکیں اور ان پر آزادی اظہار کی پابندی جو کہ آئین میں دی گئی ہے کی خلاف ورزی نیز ہتک عزت وغیرہ کا مقدمہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اس قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طرف تو ٹویٹر اور فیس بک وغیرہ نے غیر ممالک کے ساتھ معاہدوں کے تحت ان ممالک کی طرف سے نا پسندیدہ قرار دیے جانے والے اکاؤنٹ اور مواد کو بے دریغ سینسر کیا۔ جس کی بڑی مثال ، ہندوستان کے ساتھ معاہدے اور دباؤ پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق خبروں اور مواد کو سینسر کرنا ہے۔ ہندوستانی پنجاب میں سکھوں کی آزادی کی تحریک کے متعلق مواد کو سینسر اور اکاونٹس اور پیجز کو بھی بلاک کیا گیا تھا۔
اسی طرح سعودی حکومت کی طرف سے سعودی حکومت کے ناقدین کا ناطقہ بند کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بہت سا تشدد پسند اور تشدد کو کھلی دعوت دینے والا یا مغربی حکومتوں کے نزدیک ناقابل قبول مواد ان پلیٹ فارمز پر کھلے عام چل رہا ہوتا ہے۔ جس کی بڑی مثال ایران سے آیت اللہ کے اسرائیل کو نیست نابود کردینے اور صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی باتوں کا ٹویٹر فیس بک وغیرہ پر بلا روک ٹوک چلنا ہے۔ اس سب کے ساتھ امریکہ کی اندرونی سیاست کے اعتبار سے بھی سوشل میڈیا خصوصا ٹوئٹر نے اپنے اختیارات کا استعمال بعض معاملات میں ایسے کیا جس سے ٹوئٹر کا لبرل یا اینٹی رپبلکن جھکاؤ محسوس ہوتا ہے۔
ادفعہ 230 میں ترمیم کا بل رپیبلکن پارٹی کی طرف سے پیش ہؤا اور سینیٹ جہاں رپبلیکن پارٹی کی اکثریت ہے، کے کمیٹی چیرمین ٹیڈ کروز نے ایک موقع پر ٹوئٹر کے مالک کو کمیٹی سماعت کے دوران آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا:
"Mr. Dorsey, who the hell elected you and put you in charge of what the media are allowed to report and what the American people are allowed to hear, and why do you persist in behaving as a Democratic super PAC silencing views to the contrary of your political beliefs?"
’مسٹر ڈورسی ، تمہیں کس نے منتخب کیا اور اس بات کا اختیار دیا کہ تم فیصلہ کرسکو کہ کون سی خبر امریکی عوام کو پہنچنی چاہیے اور کون سی نہیں۔ اور تم مستقلاً ڈیموکریٹک پارٹی کے بھونپو کی طرح عمل کرتے ہوئے اپنی سیاسی رائے سے مختلف خیالات پر روک لگا رہے ہو‘۔
ڈیمو کریٹک پارٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ سماعت اور ترمیم کی کوشش دراصل الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ سوشل میڈیا کو کئی حوالوں سے خود کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ وہیں سے شروع ہو سکتا ہے جس سرزمین سے سوشل میڈیا کا آغا ہوا ۔ جہاں تک پاکستان اور تیسری دنیا کے ممالک ہیں، ان کے ساتھ سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر اور فیس بک نے بتدریج ایسے خوفناک اور انسانیت اور عزت سے عاری معاہدے کر لیے ہیں کہ بس اللہ دے اور بندہ لے۔
غور کریں کہ ٹویٹر فون نمبر کے بغیر اب صارف کو اکاؤنٹ بنانے اور چلانے نہیں دیتا اگرچہ فیس بک نے ابھی یہ لازمی نہیں کیا۔ ٹویٹر صارف کا فون نمبر صارف کے ملک کی حکومت کو فراہم کر سکتا ہے جس سے مقامی حکومت کے لیے ٹویٹر صارف کو ٹریس کرنا آسان بن جاتا ہے۔ اور یوں سوشل میڈیا جائنٹس حکومتوں کو صارف کی ذاتی تفصیلات دے کر اس کے لیے سیکیورٹی رسک بھی بنا دیتے ہیں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں حکومتوں کی دلچسپی مداحین سے زیادہ ناقدین کو ڈھونڈ کر ان کی آواز دبانے میں ہوتی ہے۔ چنانچہ ایسے صارف کا ڈیٹا اس کی حکومت کو فراہم کردینے سے اظہار رائے کا حق تو متاثر ہو ہی جاتا ہے۔