ڈاکٹر عافیہ نے سزا سے معافی کے لئے رحم کی اپیل دائر کر دی
- جمعہ 30 / اکتوبر / 2020
- 9090
پاکستان کی سینیٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ امریکہ کی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی سزا معاف کروانے کے لیے رحم کی درخواست پر دستخط کر دیے ہیں۔
پارلیمانی امور پر وزیرِ اعظم کے مشیر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رحم کی اپیل دائر کرنے پر تحفظات تھے لیکن اب انہوں نے اس پر دستخط کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق جیل انتظامیہ کی جانب سے رحم کی یہ درخواست امریکہ کے صدر کو ارسال کر دی گئی ہے۔
مئی میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ امریکی جیل حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی سزا کی معافی کے لیے رحم کی درخواست پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے انہیں مبینہ طور پر افغانستان میں حراست کے دوران امریکی فوج اور ایف بی آئی کے افسران پر فائرنگ کرنے کے الزام سزا دی گئی تھی۔
جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے پاس اختیار ہوتا تو 24 گھنٹوں کے اندر عافیہ صدیقی کو واپس پاکستان لے آتے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کے قونصلر جنرل کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے حالیہ دنوں میں ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم ان کی صحت بہتر ہے اور وہ ای میل کے ذریعے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں۔
پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ امریکہ کی حکومت نے پاکستان کو پیشکش کی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنی باقی قید اپنے ملک میں کاٹ لیں جو کہ عالمی قانون بھی ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے غلط فورم پر پٹیشن جمع کرائی جس کے باعث دو سال کا وقت ضائع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اب اگر دفترِ خارجہ نے صحیح قانونی فورم استعمال کیا ہے تو وہ پر امید ہیں کہ جلد اس پر مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔ عرفان عزیز ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ جس طرح امریکہ کی حکومت سنجیدہ ہے اس لحاظ سے اگر پاکستان سنجیدگی سے اقدامات لے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی بہت جلد پاکستان میں ہوں گی۔
خیال رہے کہ امریکی حکومت پاکستان کی جیل میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کی خواہش رکھتی ہے۔ گزشتہ برس امریکہ کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی پر آنے والے دنوں میں گفت و شنید ہو سکتی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے بھی مئی 2013 میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے دائر کی جانے والی ایک درخواست میں وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ باہمی معاہدوں کی رو سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کوئی راستہ تلاش کرے۔