دنیا بھر میں پہلی بار ایک روز میں کورونا کے 5 لاکھ سے زائد کیسز
- جمعہ 30 / اکتوبر / 2020
- 5590
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھںٹوں کے دوران کورونا وائرس کے شکار 20 مریض دم توڑ گئے جب کہ ایک ہزار 78 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چند روز کے دوران اموات اور کیسز میں تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اموات تک عالمی وبا سے چھ ہزار 795 افراد ہلاک اور تین لاکھ 32 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ 632 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
دنیا بھر میں پہلی مرتبہ بدھ کو ایک روز کے دوران کورونا وائرس کے پانچ لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر کووڈ 19 کیسز کی یومیہ تعداد میں دو ہفتوں سے بھی کم مدت کے دوران تقریباً 25 فی صد اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ جمعے کو دنیا میں پہلی بار ایک دن میں چار لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
بیشتر مغربی ممالک اور لاطینی امریکہ کے کچھ حصوں میں پچھلے کچھ ہفتوں کے دوران ایک روز میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا جس کے بعد بہت سے ممالک نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد چار کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اب تک گیارہ لاکھ سے زیادہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے یورپ، شمالی امریکہ اور لاطینی امریکہ میں کورونا کے 66 فی صد مریض ہیں۔ ان خظوں میں دنیا کی 76 فی صد سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ یورپ میں روزانہ کی بنیاد پر متاثر ہونے والے افراد میں دوگنا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ یورپ میں بدھ کو پہلی بار ڈھائی لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہاں اب تک تقریباً 90 لاکھ 50 ہزار افراد متاثر اور دو لاکھ 61 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارت میں کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد 80 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے جب کہ موسمِ سرما میں ماہرین وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق بھارت میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 80 لاکھ 40 ہزار 203 ہوگئی ہے جب کہ اب تک ایک لاکھ 20 ہزار 527 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارت کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جہاں اب تک کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 90 لاکھ 10 ہزار ہو چکی ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں بدھ کو پانچ ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جو ایک دن کے دوران سامنے آنے والے کیسز کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے اعلان کیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے باعث دو سے 20 نومبر تک بارز، تھیٹرز اور ریستوران بند رہیں گے۔ مقامی حکومتوں کی مشاورت کے ساتھ دوبارہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں کیوں کہ وائرس کی دوسری لہر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اینجلا مرکل نے کہا کہ جرمنی کا نظامِ صحت موجودہ صورتِ حال کو سنبھال سکتا ہے، لیکن لاک ڈاؤن نہ کیا تو آنے والے ہفتوں میں صورتِ حال کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔ یورپ میں وائرس کی دوسری لہر کے باعث ایک بار پھر اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رُجحان دیکھا جا رہا ہے۔