مغرب کو سمجھانا پڑے گا کہ توہین رسالت آزادی اظہار رائے نہیں ہے: وزیراعظم

  • جمعہ 30 / اکتوبر / 2020
  • 9100

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کوئی اس بات کا اندازہ نہیں کرسکتا جومسلمانوں کو اپنے نبیﷺ کی بے حرمتی سے کتنی تکلیف پہنچتی ہے۔ دنیا کو سمجھانا پڑے گا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔

عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انشا اللہ پاکستان اس معاملے میں رہنمائی کرے گا۔ میں مسلمان رہنماؤں سے بات کروں گا اور مجھے یقین ہیں کہ ہم یہ کرسکیں گے۔ لاکھوں مسلمان مغربی ممالک میں رہ رہے ہیں، اس طرح کے واقعات پر ان کی زندگی عذاب میں آجاتی ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ مسلمان سربراہانِ مملکت مغربی اداروں کو سمجھائیں گے کہ گستاخانہ کارٹون بنانا اظہار رائے کی آزادی نہیں مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کو بھی پوری طرح نبی اکرم ﷺ کی شخصیت اور عظمت کا ادراک نہیں ہے اور میں خود اس عمر میں بھی ان کے بارے میں نئی چیزیں سیکھتا ہوں۔ اللہ پاک نے قرآن میں رسول اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہمیں کہا گیا کہ نبی ﷺ کی زندگی سے سیکھو کیوں کہ دنیا میں ان سے نہ کوئی عظیم انسان آیا ہے نہ آسکتا ہے۔

چاہے آپ مسلمان ہوں یا نہ ہوں، آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ جو کچھ نبی اکرم ﷺ نے کیا وہ دنیا میں نہ کسی نے کیا نہ کرسکتا ہے۔ اس پر مغرب میں بھی کتابیں لکھی گئیں۔ دنیا کے 100 بڑے انسانوں میں سب سے پہلا نمبر پیغمر اسلام کو اس لیے دیا گیا کہ جو انہوں نے کیا وہ دنیا کی تاریخ کا حصہ ہے۔ جتنا ہم ان کی زندگی کے بارے میں پڑھیں گے آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کا کتنا بڑا مقام تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک فرمان ہے کہ آخری دنیا کے لیے ایسے رہو جیسا ابھی مرنا ہے اور اِس دنیا میں ایسے رہو کہ جیسے 1000 سال زندہ رہنا ہے۔ اس کی گہرائی میں جائیں گے تو اندازہ ہوگا کہ آج دنیا کے متعدد مسئلے اسی وجہ سے ہیں۔

اب یہ جو موسمیاتی تبدیلیاں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان دنیا میں اپنی آئندہ نسلوں کے بارے میں سوچتے ہوئے نہیں رہ رہا۔ گلوبل وارمنگ کے بہت خطرناک اثرات ہیں، اگر ایسا ہی چلتا رہا تو گلیشیئر پگھلتے رہنے سے ایسا وقت آئے گا کہ دریاؤں میں پانی بہت کم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نبی آخرالزماں کی زندگی کا جتنا مطالعہ کیا جائے اس سے اندازہ ہوگا کہ ایک انسان نے ساری دنیا کو کس طرح تبدیل کیا۔ ان میں کیا خصوصیات تھیں کہ انہیں دیکھ دیکھ کر لوگ رہنما بن گئے۔ وزیراعظم نے ایک انگریزی کتاب ’دی عرب کونکوئیسٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ اتنے وقت میں اتنے عظیم انسان اس دنیا میں نہیں آئے۔ ان کے ساتھی عظیم انسانوں مین شمار ہوئے کیوں کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی صحبت سے ہی رہنما بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی سے سیکھنا چاہیئے کہ ان کا باقی مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ، خواتین کے ساتھ، غلاموں کے ساتھ کیسا رویہ تھا۔ آج اقوامِ متحدہ کا چارٹر دیکھ لیں رسول اکرم ﷺ کے آخری خطبے سے ملتا ہے کیوں کہ ان کی باتیں ہمیشہ کے لیے تھیں۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پورے ملک میں ساتویں سے نویں جماعت میں بچوں کو نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بارے میں پڑھانے کے لیے قانون منظور کریں۔ یونیورسٹی گریجویٹس کو بھی سیرت النبی ﷺ کی اتنی سمجھ نہیں ہے لیکن جب وہ اس بارے میں پڑھتے جائیں گے انہیں سمجھیں گے اس طرح ان کے اندر سے تبدیلی آئے گی۔

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے اجلاس میں بھی یہی بات کی تھی کہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر جب تک مسلمان سربراہان مملکت مل کر اقدام نہیں اٹھائیں گے، اس میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس کا سب سے بڑا نقصان ان ممالک میں اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کو ہوگا۔ اگر ہم اسلاموفوبیا کو حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تو یہ بیماری بڑھتی جائے گی اور جو فرانس میں ہورہا ہے یہ وہی ہے جو ہمیں لگ رہا تھا کہ ہونے والا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مغرب کے لوگ ہمارے نبی کریم ﷺ سے رشتے کو نہیں سمجھتے انہیں سمجھ آ بھی نہیں سکتی کیوں کہ مسیحی برادی کا حضرت عیسیٰ اور یہودیوں کا جو پیغمبروں سے تعلق ہے اور وہ جس طرح ان کے بارے میں بات کرتے ہیں اس میں وہ احترام نہیں ہوتا جو ہمارے رویوں میں ہے۔ ہم تمام پیغمبروں کا نام انتہائی ادب سے لیتے ہیں لیکن مغرب میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں پیغمبروں پر مزاحیہ فلمیں بنائی جاتی ہیں، جس میں پیغمبروں کی بے حرمتی ہوتی ہے اور یہ اسے برا نہیں سمجھتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ مغرب کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہم مسلمانوں کا عقیدہ اور سوچ کیا ہے۔ جب سلمان رشدی نے گستاخانہ کتاب لکھی تو مسلمانوں کا رد عمل آیا، خود سلمان رشدی ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا تھا تو اسے معلوم تھا کہ ردِ عمل آئے گا لیکن مغرب کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے۔

وزیراعظم نے کہا مغرب دنیا کا تاثر یکسر مختلف ہے دین پر وہ مختلف سوچتے ہیں اور ان کی اکثریت لادین بن چکے ہیں، اس لیے انہوں نے یہ بیانہ شروع کردیا کہ مسلمان آزادی اظہار کے خلاف ہیں، تنگ نظر ہیں، یہ ہماری اقدار، جمہوریت کو نہیں سمجھتے اور اس پر پوری مہم چلائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مغرب میں ایک طبقہ ہے جو اسلام مخالف ہے، اسے برا دکھانا چاہتا ہے اور اس کے لیے پروپیگنڈا کرتا ہے۔ اس وقت ہونا چاہیے تھا کہ مسلمان رہنما متحد ہوتے اور پوری دنیا کو بتاتے کے نبی اکرم ﷺ کی بے حرمتی سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ جب تک ہم مسلمان رہنما انہیں نہیں بتائیں گے، وہ طبقے اسے استعمال کرتے رہیں گے اور اس سے مسلمان مخالف مہم چلیں گی کیوں کہ وہ مسلمانوں کو برا دکھانا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنگ عظیم دوم کے دوران یہودیوں کا قتل عام ہوا، وہ تعداد میں کم ہیں لیکن طاقتور متحد اور میڈیا پر قابض ہیں۔ اس لیے انہوں نے ایسا کام کردیا کہ مغرب میں کسی کی جرات نہیں کہ ہولوکاسٹ پر بات کرسکیں۔ اگر انسانی برادری میں سے کسی کو کسی بات سے تکلیف ہوتی ہے تواس پر بات نہیں کرنی چاہیے۔ مغرب میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہولوکاسٹ کا مذاق اڑا سکے۔ حالانکہ یہودی کم ہیں لیکن متحد ہیں۔

وزیراعظم نے کہ ہم سوا ارب لوگ یہ نہیں کرسکے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ اس کی بڑی وجہ مسلمانوں کی قیادت ہے۔ میں مسلم دنیا کے رہنماؤں سے رابطے کروں گا اور کوشش کریں گے کہ مغرب کو اپنا مؤقف سمجھایا جائے۔