مسلم امہ اور عظمت رفتہ کی بحالی

عصر حاضر کی دانش کے ایک حصے کا استدلال ہے کہ مسلم امہ ایک عنقا نامی پرندہ تھا جو شاید صدیوں قبل عربستان کے کسی ریگستان سے کہیں اڑ گیا تھا۔ لیکن اس کی اڑائی ہوئی ہوا سانسوں کے ذریعے کئی سینوں میں ہنوز پہنچ رہی ہے۔

ہم ان داناﺅں یا دانشوروں سے جزوی اختلاف رکھتے ہوئے عرض گزار ہیں کہ ہزاروں اختلافات و تنازعات کے باوجود کوئی بات تو ہے کہ کانٹا کسی کو کابل میں چبھتا ہے لیکن اس کا درد پشاور میں محسوس کیا جاتا ہے۔ مانا کہ مقدس راشدین کا مثالی نظام تین دہائیاں بھی نہیں چل پایا تھا کہ خاندانی و موروثی بادشاہتوں نے تمام مفتوحہ خطوں میں جبر کی سلطنتیں قائم کر لیں۔ مگر کوئی بات تو ہے کہ طویل صدیاں گزرنے کے باوجود کہیں دور بیٹھا شہرت کا چاہنے والا آج بھی اس کرشمے کی بازگزشت بیان کرتا دکھائی دیتا ہے ترک سلطان اسی رواروی میں پوری صدی گزرنے کے بعد ٹھنڈی خاک سے اپنی سلطانی چنگاری ڈھونڈ رہا ہے۔

سیاسی لوگوں سے ہٹ کر اگر ہم جائزہ لیں تو نظریاتی جنت کے لاکھوں پرستار مل جائیں گے جو ایمانداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن ضرور ہماری ایمپائر  یا نشاة ثانیہ ہو گی۔ یوں دنیا کی موجودہ تمام ترقی یافتہ اقوام پر ہمارا قبضہ و غلبہ ہو جائے گا اور جس طرح ہم نے ازمنہ وسطیٰ میں دیگر اقوام عالم کو ناکوں چنے چبوائے تھے، وہ کرشمہ ایک مرتبہ پھر ہم زمانے کو دکھلائیں گے۔ اسی لئے ہم وقت یا ز مانے کو آگے کی طرف نہیں بلکہ پیچھے کی طرف لے جانے کے لئے بے چین ہیں۔ ”دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو“۔

یہ کسی شیخ چلی کا خیالی سپنا نہیں ہے۔ بیسویں صدی میں ہمارا جتنا نظریاتی لٹریچر چھپا ہے اور آج اکیسویں صدی کے بیسویں سال تک چھپ رہا ہے وہ تمام کا تمام ہماری عظمت رفتہ کی بحالی کے جذبات سے بھرا پڑا ہے۔ کہنے کو بے شک ہم یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ طرز کہن پہ اڑنا اور آئین نو سے ڈرنا، بری بات ہے لیکن جسے ہم ایک سانس میں بری بات کہتے ہیں اگر گہرائی میں جا کر جائزہ لیا جائے تو ہماری تمامتر جدوجہد کا محور ہمارے عہد رفتہ کی بحالی ہے، لہٰذا کوئی پل نہیں گزرتا جب ہم اس تابناک ماضی کی عظمتوں کے گیت گاتے سنائی نہ دیتے ہوں۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر، ہم اپنے منفی ادوار کو بھی نمک مصالحے لگا کر اپنے عوام کے سامنے آئیڈیل اور ماڈل کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ اس پر ناول اور افسانے لکھے جاتے ہیں اور عصر حاضر میں ان کی ڈرامائی تشکیل کی جاتی ہے۔

بیسویں صدی کے آخری عشروں میں انسانیت کو جتنے زخم لگے ہیں، جتنی دہشت گردی پھلی پھولی اور پروان چڑھی ہے انسانیت اکیسویں صدی کی دو دہائیاں گزرنے کے باوجود اس عفریت کی تباہ کاریوں سے ہنوز نکل نہیں پائی ہے۔ عصر حاضر کی دانش یہ سمجھتی ہے کہ ان انسانی بربادیوں کی بنیاد اسی قدامت پسند نظریہ جبر پر استوار ہے۔ ہماری انہی مسلم سوسائٹیوں میں اس وقت کتنی شدت اور قدامت پسند تنظیمیں ہیں جن کی اٹھان، جدوجہد اور جینا مرنا وہی سہانا نظارہ دیرینہ زمانے کو دکھانا ہے۔ اور اسی کی مطابقت میں پوری دنیا کو چلانا ہے۔ یہاں ان گروہوں، گروپوں اور تحریکوں کے نام گنوائے جا سکتے ہیں جو بظاہر امن و اعتدال کا نام لیتے ہوئے بھی اندر سے دیگر مذاہب و اقوام کے خلاف منافرت پھیلا رہی ہیں لیکن پوری سچائی کو بیان کرنا مشکل ہے۔

مسئلہ محض شدت پسند لشکروں، تنظیموں یا گروہوں کا نہیں ہے، یہاں تو ہماری قومی ریاستوں میں ایسی سیاسی پارٹیاں تک موجود ہیں جو اپنے ممالک کے اقتدار پر قابض ہو کر اپنی اقوام کو صدیوں قدیمی نظریات کی مطابقت میں چلانا چاہتی ہیں جن کی نظروں میں ہمہ جہتی جدید سائنٹفک ترقی پرکاہ کے برابر نہیں ہے۔ اور ان کے نظریاتی رہنما پوری ڈھٹائی سے اعلانیہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ ہم سائنس اور سائنسی ترقی کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ مسلم معاشروں میں چھائی قدامت پسندی کی اس اپروچ کا نتیجہ ہے کہ یہاں انسانیت کی سب سے اعلیٰ و انمول قدر ”آزادی اظہار“ کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ نتیجتاً ہم ذہنی پسماندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں یہاں لبرل و سیکولر انسانی اقدار اجنبی بنی ہوئی ہیں۔ سادہ لوح عوام کو بھڑکانے کیلئے سیاست میں مذہب کا استعمال بے دردی سے کیا جاتا ہے۔ سوسائٹی کے کمزور طبقات اقلیتوں اور خواتین کے خلاف امتیازی رویے ہی عام نہیں ہیں۔ بلکہ امتیازی قوانین بھی موجود ہیں جن کے خلاف آواز اٹھانا خود کو مصائب والائم کی بھٹی میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

اس وقت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک موجود ہیں جن میں مذہبی حوالوں سے بھاری اکثریت مسیحیوں کی ہے۔ کیا ان ممالک اور حکومتوں نے کبھی اس حوالے سے کوئی اقدام اٹھایا ہے یا سوچا ہے کہ مسیحی ریاستوں پر مشتمل کوئی عالمی سیاسی اتحاد بطرز او آئی سی  تشکیل دیا جائے۔  آخر ہمی کو ہمہ وقت یہ بخار کیوں چڑھا رہتا ہے بلکہ آنسو بہاتے رہتے ہیں کہ او آئی سی اقوام متحدہ کے ہم پلہ  زیادہ مضبوط اور فعال کیوں نہیں ہے؟ اس پر روتے ہیں کہ یہ متبادل پلیٹ فارم کیوں نہیں بن جاتی؟ ہمارا بس نہیں چلتا ورنہ ہم یورپ کو بھی موجودہ ترقی یافتہ مقام سے کھینچ کر نچلی سطح پر لے آئیں۔

ہماری اپنی کتاب یہ کہہ رہی ہے کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ جب جان کے بدلے جان کہا جا رہا ہے تو ہمیں یہ حق کس طرح پہنچتا ہے کہ آنکھ کے بدلے بھی ہم نے جان لینی ہے۔ دانت کے بدلے بھی جان اور توہین کے بدلے بھی بس جان ہی لینی ہے۔ اگر کوئی آپ کے مقدسات کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے تو آپ بھی اس کے مقدسات کی بڑھ چڑھ کر توہین کر لو ، حالانکہ آپ کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ آپ ان کے جھوٹے خداﺅں کو بھی برامت کہو تاکہ وہ آپ کے سچے خدا کو برا نہ کہہ سکیں۔

 کیا پروردگار عالم سے بڑھ کر بھی کوئی مقدس ہستی اس کائنات میں موجود ہے؟ کہا تو یہ گیا تھا کہ انسانی جان کی حرمت اور اس کا تقدس حرم کعبہ سے بھی بڑھ کر ہے۔ لیکن تم نے اسے بچوں کا کھیل بنا دیا ہے۔ (جاری ہے)