سیاسی لڑائی میں افواج پاکستان کو شامل نہ کریں: ایاز صادق
- ہفتہ 31 / اکتوبر / 2020
- 4720
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ہم سب محب وطن پاکستانی ہیں۔ نہ مجھے حق ہے کہ میں کسی کو غدار کہوں اور نہ کسی کو حق ہے کہ وہ مجھے غدار کہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہفتہ کے روز لاہور میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما ایاز صادق سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی۔
ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ ہندوستان اپنے ناپاک عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ ہماری سیاسی سوچ مختلف ہو سکتی ہے لیکن پاکستان کے مفاد پر پوری قوم یکجا ہے۔ میری بات پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر سیاسی بات کو جو رنگ دینے کی کوشش کی گئی اس سے پاکستان کے بیانیے کو فائدہ نہیں ہوا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ افواج پاکستان کو، میرے بیان سے نتھی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ پاکستان کی خدمت نہیں تھی۔ میرا بیان دیکھا جا سکتا ہے، سنا جا سکتا ہے اور اس میں اس حکومت کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ جسے حکومتی لوگوں نے غلط انداز میں پڑھا جو سراسر پاکستان کے خلاف سازش ہے۔
ایاز صادق نے کہا کہ میں نے اس نالائق حکومت کے بارے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ آپ نے جو لڑائی لڑنی ہے وہ ضرور لڑیں، افواج پاکستان کو اس لڑائی سے باہر رکھیں۔ آج لاہور میں جو بینر اور پوسٹر لگے یہ پاکستان کے مؤقف کی کوئی خدمت نہیں ہے۔ یہ آپ نے ہندوستان کے میڈیا کے ہاتھوں میں کھیل کے پاکستان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے مؤقف پر کھڑا ہوں۔ میرے پاس بے شمار راز ہیں۔ میں پارلیمنٹ کے نیشنل سیکیورٹی کمیشن کی سربراہی کرتا رہا ہوں۔ میں نے کبھی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا ہے اور نہ دوں گا۔ ہم سیاسی لوگ ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بیان دیتے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ مثبت کردار ادا کریں.
اس دوران وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے کسی رہنما نے ایاز صادق کے بیان کی تردید نہیں کی۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ پی ڈی ایم کا بیانیہ ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں شبلی فراز نے کہا کہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے ناامیدی پھیلائی جاتی ہے۔
قومی اسمبلی میں ایاز صادق کی تقریر سے ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔ حکومت سیاسی بدمعاشوں کو ملک کا تشخص مسخ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ہم ایسے بیانات کا احتساب کریں گے اور ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ان لوگوں نے پاکستان کی سیاست کو اپنے ذاتی مفاد کا محور بنا دیا ہے۔ عمران خان کے آنے کے بعد یہ تبدیل ہو گا اور اب سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفادات پر سیاست ہو گی۔