فوج کے خلاف بات کرنے والوں کو بھارت چلے جانا چاہیے: وزیرداخلہ

  • ہفتہ 31 / اکتوبر / 2020
  • 5470

وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ اپنی فوج کے خلاف بات کرنے والوں کو سرحد پا امرتسر جاکر رہنا چاہئے۔ ننکانہ صاحب میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا جو لوگ مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کے ساتھ ہیں، اللہ انہیں ہدایت دے۔ اللہ ان کی حفاظت بھی کرے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ خطرے میں ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اپنی فوج کے خلاف جو بات کرتا ہے اسے بھارت چلے جانا چاہئے۔ اے پی پی کے مطابق  وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ریاست قوم کی ماں ہوتی ہے لیکن حکومت دشمنی میں سیاسی جماعتیں حد پار کرگئی ہیں۔ سیاسی جماعت کے رہنما کی طرف سے آرمی چیف پر الزام تراشی کی گئی تاہم پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ہر پاکستانی اپنی فوج سے محبت کرتا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے شور شرابے کا واحد مقصد لوٹی ہوئی دولت بچانا ہے۔ پاک فوج کے خلاف بولنے والے اپنی سیکیورٹی کا بھی خیال رکھیں، اللہ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کی حفاظت کرے۔ حکومت مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ کوئی بھی اپنا عقیدہ دوسروں پر مسلط نہیں کرسکتا۔ دشمن قوتیں ملک میں فرقہ واریت پھیلانا چاہتی ہیں

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت قابل افسوس ہے۔ مغرب میں اظہار رائے کی آڑ میں مسلمانوں کی دل آزاری کی جارہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں سے پوری امت مسلمہ کے دل دکھی ہوئے۔ عمران خان اور طیب اردوان نے حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی۔ حرمت رسول ﷺ کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے ایاز صادق کے خلاف آرٹیکل 6 کے مقدمے کے تحت کارروائی کی درخواستیں دی ہیں۔انہوں نے غلط بات کی ہے۔ میرے خیال کے مطابق قانون کے تحت اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے گھٹنے ٹیک کر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واپس بھارت بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس میں وزیر اعظم نے آنے سے انکار کردیا تھا مگر آرمی چیف اس میں شریک تھے۔ پسینے میں شرابور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ خدا کے واسطے ابھی نندن کو واپس جانے دیں ورنہ بھارت آج رات 9 بجے حملہ کردے گا رہا ہے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی کے بیان پر بھارتی میڈیا نے خوب واویلا مچایا تھا اور بھارتی پائلٹ کی رہائی کو اپنی فتح سے تعبیر کیا جارہا تھا۔ اس بیان کے بعد ایاز صادق نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اشارہ سول لیڈر شپ کی کمزوری کی جانب تھا، بھارتی میڈیا نے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔