آزادی اظہار سے کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے: ٹروڈو
- ہفتہ 31 / اکتوبر / 2020
- 6140
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ یہ آزادی بغیر حدود و قیود کے نہیں ہو سکتی۔ کسی اظہار سے مختلف کمیونٹیز (برادریوں) کی بلاوجہ دل آزاری نہیں کی جانی چاہیے۔
فرانس کے جریدے چارلی ایبڈو میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کینیڈا کے وزیر اعظم نے کہا کہ 'ہم ہمیشہ آزادی اظہار رائے کا دفاع کریں گے۔' تاہم انہوں نے کہا کہ آزدی اظہار حدود کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں سے عزت سے پیش آئیں اور معاشرے اور اس دنیا میں دوسرے لوگوں کی جب دل چاہے اور بلاوجہ دل آزادی نہ کریں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جسٹن ٹروڈو نے اس سلسلے میں مثال سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایک سینیما ہال جو فلم بینوں سے بھرا ہوا ہو وہاں کسی شخص کو چیخ کر آگ آگ کہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ فرانس کے صدر میکرون کے موقف سے اختلاف جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ آزادی اظہار کا احتیاط سے استعمال ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 'کثیر النسلی، متنوع اور ہمارے جیسے باادب معاشرے میں ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ہمارے الفاظ اور ہمارے افعال کا دوسرے پر کیا اثر پڑے گا اور خاص طور پر ان لوگوں اور برادریوں پر جو پہلے ہی سے بہت زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا کر رہی ہیں۔' معاشرے میں ان نازک اور سنجیدہ موضوعات پر ذمہ دارانہ انداز میں بحث ہونی چاہئے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم نے فرانس میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ ان اندوہناک اور المناک واقعات کی مذمت کی جانی چاہیے۔ کینیڈا خلوص دل سے ان واقعات کی مذمت کرتا ہے اور اس مشکل وقت میں اپنے فرانسیسی دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
کینیڈا کی پارلیمان نے جمعرات کو ان تین فرانسیسی شہریوں کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جن کو فرانس کے جنوبی شہر نیس میں ایک شخص نے چاقو سے ہلاک کر دیا تھا۔