اہل مغرب کی گستاخی اور ردعمل

حال ہی میں ایک دفعہ پھر بہت افسوسناک حادثہ رونما ہوا۔ جسے  بیان کرنے کی قلم میں اور نہ ہی زبان میں طاقت ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی پھر نمائش کی گئی۔  مغربی ممالک میں آئے دن اس قسم کی شرارتیں مسلمانوں کو دکھ دینے کے لئے کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملکوں میں آزادی اظہار کی اجازت ہے اور یہ بنیادی حق ہے۔

اس کے نتیجہ میں جو ردعمل مسلمانوں کی طرف سے دیکھنے میں آرہا ہے وہ بھی کچھ درست نہیں ہے۔  کلاس میں خاکے دکھانے والے استاد کا سر قلم کر دیا گیا ۔ یہ ردعمل نہ ہی اسلام کی تعلیم ہے اور نہ ہی آنحضرت ﷺ کے اسوہ سے ثابت ہے۔ مغرب  چاہتا ہے کہ مسلمان  ردعمل دکھائیں اور پھر وہ ان پر پابندیاں لگائے۔ رسول کریم ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور ہوش کے ناخن لئے جائیں نہ یہ کہ ہم عقل اور ہوش کھوبیٹھیں۔

ہم اس قتل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور فرانس سمیت دیگر ممالک میں جہاں آزادی  صحافت، آزادی مذہب، آزادی ضمیر کا دعویٰ  کیا جاتاہے، ان  سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی مذہب کے  بانی کی ہتک سے باز آئیں۔ آزادی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنی حدود سے تجاوز کریں۔ دوسروں کے احساسات اور مذہب کا احترام اور مقدس  ہستیوں  کا احترام بہرحال ضروری اور مقدم ہے۔ ابھی ابھی فرانس کے ہی شہر نیس میں ایک چرچ میں عبادت کے دوران حملہ ہوا ۔ تین افراد مارے گئےاور ایک خاتون کا سر قلم کر دیا گیا۔  وہاں کے میئر نے اسے ’’اسلاموفاشزم‘‘ قرار دیا ہے۔ مشتبہ حملہ آور کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ لگاتار اونچی آواز سے اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا۔ وزیراعظم فرانس نے کہا  ہےکہ کسی شک کے بغیر یہ ہمارے ملک کو درپیش ایک انتہائی سنگین نیا چیلنج ہے۔ فرانسیسی حکومت نے انتہا پسند اسلامی عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

ترک صدرنے فرانسیسی اشیا کا بائیکاٹ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہمارے ملک کے وزیراعظم نے بھی مغربی ممالک کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔  بات مزید بڑھ رہی ہے اسے یہاں ہی روکنا ہو گا۔  اس کا طریق اسلامی شریعت میں پہلے سے موجود ہے۔ صرف ضرورت عمل کی ہے۔  اسلام کہیں بھی کسی کے خلاف کسی دہشت گردی کی  اجازت نہیں دیتا۔ اگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو نبی رحمت   حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ﷺنے ہر ایک کے ساتھ بلکہ دشمنوں کے ساتھ بھی رحمت کا سلوک فرمایاہے۔  بس وہی طریق اختیار کرنا پڑے گا۔

یہ واقعات کوئی پہلی دفعہ رونما نہیں ہوئے۔ فروری 2006میں ڈنمارک اور دوسرے مغربی ممالک میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں اشےعال انگیز مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے والے کارٹون  شائع ہونے پر تمام اسلامی دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ رہی تھی۔ اس وقت بھی مسلمانوں کا ردعمل ہڑتالوں کی صورت میں ظاہر ہوا، آگ لگانے کی صورت میں نکلا، مغربی ممالک کے جھنڈے جلانے کی صورت میں ظاہر ہوا۔  پھر ستمبر 2006 میں پوپ نے بھی اسلام کے خلاف معترضانہ بیان دیا جس سے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور اس وقت بھی مسلمانوں نے اس قسم کا ردعمل ظاہر کیا جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں ان تمام واقعات پر دلی افسوس ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ:

1۔مغربی ممالک آزادی کے نام پر مسلمانوں پر زیادتی نہ کریں اور اس قسم کے خاکے شائع کر کے یا آنحضرت ﷺ کی مقدس ذات پر کیچڑ اچھال کر ہمارے دلوں کو زخمی نہ کریں۔ آزادی صحافت کی بھی ایک حد ہے۔ اپنی حد سے تجاوز نہ کریں۔ دوسرے کے جذبات، احساسات اور مقدس وجود وں کا احترام کریں اور شرارت و فساد کے طریقوں سے باز رہیں۔ بلکہ حلم و آشتی، پیار و محبت میں تعاون کریں۔

2۔ مسلمان بھی جو اسلام کی تعلیم کے مطابق  اپنا  ردعمل دکھائیں ۔ ہمیں ہر قسم کے فساد، قتل و غارت اور ہر اس عمل سے باز رہنا چاہئے جس سے اسلام کے خوبصورت نام پر داغ لگتا ہو۔ یا آنحضرت کی ذات مقدسہ پر حرف آتا ہو۔ مسلمان  ضرورتلوار کا جواب تلوار سے دیں  لیکن  باتوں کا جواب تلوار سے نہ  دیں۔ آنحضرت ﷺ نے تو ہر قیمت پر امن کو قائم رکھنے کی کوشش اور سنت قائم فرمائی ہے۔ صلح حدیبیہ اس کی شاندار مثال ہے کہ اپنے نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ بھی امن کی خاطر خود کاٹ دیا۔

3۔ ہمیں انتہا پسندی سے رکنا ہو گا۔ اس وقت اکناف عالم میں مسلمان اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے بدنام ہو رہےہیں۔ بی بی سی کی ہی رپورٹ کے مطابق  گزشتہ کچھ ہفتے پہلے پاکستان کی  عدالت عالیہ میں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ کیونکہ وہ شخص ان کے عقیدہ کے مطابق گستاخ رسول تھا۔ کیا یہ پاکستان میں انتہا پسندی نہیں ہے؟ مسیحی لوگوں کے چرچوں کو نذر آتش کرنا، ان کی پوری آبادی کو جلا دینا، عورتوں اور بچوں پر عرصہ حیات تنگ کر دینا، کیا یہ مذہبی انتہا پسندی نہیں ہے؟ اور پھر ایوان حکومت میں ایسے قاتلوں کے حق میں  تقاریر کرنا اور پولیس کا قاتل کے ساتھ سیلفی بنانا،یہ  ایسا ظلم ہے جو ایوان حکومت میں ہو رہا ہے۔

کچھ دن پہلے ڈان نیوز ٹی وی اور بی بی سی میں ہی یہ بات سننے اور پڑھنے کو ملی کہ پاکستان میں چند انتہا پسند نوجوانوں نے ڈاکٹر سلام کی تصویر پر جو نوبیل پرائز انعام یافتہ ہیں کے چہرے پر سیاہی لگائی۔ اور اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ دشمنی ڈاکٹر سلام سے تھی، یا تعلیم سے؟ وہ تو فوت ہو چکے ہیں ان کے دین کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے لیکن ملک اور وطن عزیز میں یہ مذہبی انتہا پسندی ہمیں کس جانب دھکیل رہی ہے۔ اسی افسوسناک واقعہ پر اگرچہ دوسرے صحافیوں اور کچھ پڑھے لکھے لوگوں نے اظہار افسوس کیا مگر حکومتی نمائندوں نے چپ سادھ رکھی۔ جب ہم اپنے ملک میں اقلیتوں سے یہ سلوک کریں گے تو مغربی  ممالک سے پھر مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں  کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟

کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں شیعہ کمیونٹی کے لوگوں کا قتل، ہندوؤں کےساتھ زیادتی یہ سب انتہا پسندی ہے۔ حکومت کا کام کسی کے مذہب میں دخل اندازی نہیں ہے۔

 جب تک ہم قرآن کریم کی تعلیم کی طرف نہ آئیں گے کہ لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ  کہ دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر نہیں ہونا چاہئے اس وقت تک مادر وطن کے حالات یہی رہیں گے۔ اس لئے مغرب کو اسلام کی خوبصورت تعلیم سمجھانے کی ضرورت ہے۔  یہ کام گولی مار کر اور قتل کر کے نہیں کیاجا سکتا۔ رسول کریم خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپؐ کی سنت کو زندہ کیا جائے۔ آپؐ کی تعلیم پر عمل کیا جائے۔اور ہر اس فعل سے اجتناب کیا جس سے اسلام  پر داغ لگتا ہو۔

ہم سوچیں کہ ہم آپ ﷺ کی تعلیمات پر کتنا عمل کر رہے ہیں؟ کیا ہم میں انتہا پسندی تو نہیں؟  کیا ہم دوسرے مذاہب کا بھی احترام کرتے ہیں یا نہیں؟ اگرکوئی غلط کرتا ہے تو اسے پیار اور محبت سے سمجھانا ہی عین اسلام ہے۔ ڈنڈے سے آپ دوسرے کا سر تو پھوڑ سکتے ہیں اس کے دل میں محبت پیدا نہیں کر سکتے۔ کسی کے خیالات بدلنے کے لئے اس کے سامنے بہتر خیالات پیش کرنے کی ضرورت ہے۔