یہاں کوئی آسمان سے نہیں اترا، سب کو جواب دینا پڑے گا: مریم نواز
- اتوار 01 / نومبر / 2020
- 4730
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر تین دفعہ کا منتخب وزیراعظم سزا بھگت سکتا ہے تو پھر یہاں کوئی آسمان سے نہیں اترا، سب کو جواب دینا پڑے گا۔ اداروں کو ایک سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑے ہونے کی پالیسی پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔
لاہور میں مسلم لیگ (ن) شیر جوان موومنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شیرجوان‘ کے بارے میں پورے ملک سے اچھا ردعمل آیا ہے۔ یہ شیردل جوان تحریک بظاہر نئی اور نام بھی نیا ہے لیکن اس تحریک کے مقاصد وہی ہیں جس کی بنیاد 83 سال قبل 1937 میں آل انڈیا مسلم فیڈریشن کے نام سے رکھی گئی تھی۔ اس کے سرپرست اعلیٰ قائد اعظم محمد علی جناح خود تھے۔ اس تنظیم نے تحریک پاکستان میں ہراول دستہ کا کردار ادا کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے 1937 میں کلکتہ میں مسلمان نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ نئی نسل کے نوجوانو، آپ میں سے ہر ایک کو علامہ اقبال اور قائد اعظم بننا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ کے محفوظ ہاتھوں میں رہے گا۔ مریم نواز نے کہا کہ کہتے ہیں کہ اس میں خواتین کو شامل نہیں کیا گیا اور شیر جوان صرف لڑکوں تک محدود ہے لیکن ایسا نہیں ہے ہم سب اس تحریک کا حصہ ہیں تمام شیرنیاں بھی اسی جذبے سے لڑیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو ہائبرڈ نظام جس کو آج کل ہائبرڈ حکومت کہتے ہیں، کے خطرات سمجھانے کی تحریک ہے۔ اس مستقبل کی قیادت تیار ہوگی۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غلامی بڑی سزا ہے، غلامی وہ بلا ہے کہ جو انسانوں سے بات کرنے کی آزادی چھینتی ہے۔ یہ وہ زنجیر ہے جو آپ کو طاقت ور کے آگے جھکنے پر مجبور کرتی ہے۔ خوف میں مبتلا کرکے بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکے جانے پر مجبور کرتی ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ غلامی وہ ہوتی ہے جب سندھ میں آئی جی کو اغوا کیا جاتا ہے اور اس کو گھنٹوں حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے اور ان سے فون لے لیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرو۔ جب وہ کہتا ہے کہ میں ایسا نہیں کرسکتا اور اجازت نہیں ہے تو بتادیا جاتا ہے کہ یہاں سے نہیں جاسکتے جب تک گرفتاری کے احکامات پر دستخط نہ کرو۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس کے خلاف ہمیں آواز اٹھانی ہے۔ آئین پاکستان میں لکھا ہے کہ پاکستان میں کیا نہیں ہوگا اور کس کا کیا حق ہے۔ آئین کی کتاب میں لکھا ہے کہ کس نے کیا کام کرنا ہے اور کس کا کیا کام نہیں ہے ۔اگر نواز شریف کا ایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہو تو نواز شریف اور مریم نواز کا ساتھ نہ دو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تین دفعہ کا وزیراعظم انتقام نما احتساب کے سامنے پیش ہوسکتا ہے تو پھر پاکستان میں کوئی مقدس گائے ہے۔ اگر مریم نواز اپنے والد کے ساتھ نیب کی 200 پیشیاں بھگت سکتی ہیں تو پھر یہاں آسمان سے کوئی نہیں اترا۔ سب کو جواب دینا پڑے گا۔ نواز شریف عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کی بات کر رہا ہے۔ نواز شریف کہتا ہے کہ آئین کی سبز کتاب کو روندنے والوں کو سزا دو اور عبرت کا نشانہ بناؤ تاکہ ملک میں مشرف جیسے لوگ دوبارہ پیدا نہ ہوسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو صرف ایک نعرہ نہیں ہے۔ جب ووٹ کو عزت ملتی ہے تو لوگوں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ جب ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو تعلیم کا بجٹ آدھے سے کم، بیرون ملک تعلیم کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے اور فیسیں بڑھ جاتی ہیں۔ چینی، آٹا مہنگا اور صحت کی سہولیات بند ہوجاتی ہیں۔ مفت ادویہ کی فراہمی بلکہ ادویہ ہی بند ہوجاتی ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وعدہ کرو کہ ایسا ملک بنائیں گے جو اپنے فیصلے خود کرے گا۔