قوم دیکھے گی کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور کسے پسینہ آتا ہے: عمران خان
- اتوار 01 / نومبر / 2020
- 3920
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وقت بتائے گا کہ کس کی ٹانگیں کانپتیں ہیں اور کس کو پسینہ آتا ہے۔ انوہں نے گلگت بلتستان کے 73 ویں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
عمران خان نے کہا کہ پوری مسلم دنیا میں تباہی مچی ہوئی ہے۔ بھارت میں انتہا پسند، مسلمانوں اور پاکستان سے نفرت کرنے والی حکومت ہے۔ ہمیں اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ کتنی مضبوط پاکستانی فوج اور سیکیورٹی فورسز کی ضرورت ہے۔ پاکستانی فوج کی قربانیاں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی بے مثال ہے۔ نریندر مودی کی حکومت یہ پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے۔ ہماری انٹیلی جنسی ایجنسیوں بھارتی منصوبوں کو ناکام بنایا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کل وہ لوگ جو اپنے آپ کو جمہوریت پسند سیاست دان کہتے ہیں، انہوں نے پاکستانی فوج اور عدلیہ کو بدنام کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں ان کی ساری کرپشن اور لوٹے ہوئے پیسے پر کسی نہ کسی طرح مجھے بلیک میل کریں اور میں انہیں این آر او دے دوں۔ تاہم پاکستان کا فائدہ اس میں ہے کہ یہاں قانون کی بالادستی ہو، کمزور اور طاقتور کے لیے ایک قانون بنے۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا مفاد پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔ سب اکٹھے ہوگئے ہیں۔ پہلے مجھے معیشت، انتخابات اور کورونا پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ جس کے بعد ایف اے ٹی ایف پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ جب میں بلیک میل نہیں ہوا تو انہوں نے پاکستانی فوج، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔ اگر یہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف بات کر رہے ہیں تو مطلب میرا انتخاب بالکل ٹھیک تھا۔ کیونکہ ڈاکو جب ان کے خلاف بول رہے تو یہ ٹھیک لوگ ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسلام اور برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ پڑھیں تو مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان میر جعفر اور میر صادق نے پہنچایا۔ جنہوں نے صرف ذاتی فائدے کے لیے اندر سے سازش کرکے اقوام کو غلام بنادیا۔ ہم آج پاکستان کے میر جعفر، میر صادق اور میر ایاز صادقوں کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آج نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں۔ ان کا مقصد ایک ہے کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان بلیک میل ہو ان کی اربوں روپے کی لوٹی ہوئی دولت کے لیے این آر او دے دے۔ عمران خان کبھی ان ڈاکوؤں کو معاف نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب تک میرا پورا زور معیشت کو ٹھیک کرنے پر تھا لیکن اب معیشت کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی پر بھی اتنا ہی زور لگاؤں گا۔ اور ریاست کے اداروں کو میں خود دیکھوں گا کہ قانون کی بالادستی قائم کریں۔ سب کو قانون کے نیچے لےکر آئیں اور آنے والے دنوں میں قوم دیکھے گی کہ کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور کس کے ماتھے پر پسینہ آتا ہے۔