پاکستان میں سب کچھ برا نہیں
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 01 / نومبر / 2020
- 6150
مجموعی طور پر معاشرے کا مزاج مسائل کو حل کرنے کی بجائے اسے پہلے سے زیادہ بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ہم اپنے اردگرد کے اچھے پہلوؤں کو نظرانداز کرکے منفی انداز میں سوچنے کے عادی بن گئے ہیں۔ ہمارا چیزوں یا ماحول کو دیکھنے کا زوایہ مثبت کم اور منفی زیادہ ہوگیا ہے۔
لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم بطور ریاست، حکومت، معاشرہ ہر پہلو میں ناکام ہوگئے ہیں یا بطور ریاست ہم ایک ناکام ریاست کا رخ اختیار کرگئے ہیں۔ آپ کسی بھی نجی یا سیاسی وسماجی، علمی و فکری محفل میں چلے جائیں تو یہ ہی بیانیہ غالب نظر آتا ہے کہ ہم سب کچھ تباہ کر بیٹھے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تباہی کا رونا رونے والوں میں اکثریت معاشرے کے پڑھے لکھے افراد میں پائی جاتی ہے جو خود ایک بڑا المحہ فکریہ ہے۔
بنیادی طور پر کوئی بھی معاشرہ مسائل سے آزاد یا پاک نہیں ہوتا۔ ہر معاشرہ میں مختلف نوعیت کے مسائل موجود ہوتے ہیں۔ ان مسائل کی نوعیت میں کچھ شدت یا کچھ کمی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر معاشرے کو مختلف مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک اچھی اور ذمہ دار قوم کی فکری ذمہ داری ان مسائل سے بہتر طو رپر آگاہی، مسائل پر تجزیاتی پہلو کو سمجھنے، نمٹنے کی صلاحیت اور ان مسائل پر موثر حکمت عملی ہوتی ہے۔معاشرے کا علم مسائل سے حل یا تاریکی سے روشنی کی طرف جاتا ہے۔ہمیں مسائل سے گھبرانے یا اس پر مایوسی کی کیفیت کو پیدا کرنے کی بجائے ان مسائل سے نمٹنے کی طرف جاناہے۔کیونکہ پہلی اور اولین ترجیح انفرادی یا اجتماعی سطح پر اپنے آپ کو ’مسائل کے حل‘ کی کنجی کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے نہ کہ ہم خود کو مسائل پیدا کرنے یا اسے بگاڑنے کا حصہ بن جائیں۔
میڈیا کا مجموعی مزاج بھی مایوسی کے کھیل کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ عمومی طور پر میڈیا کے بارے میں یہ سوچ موجود ہے کہ اس نے بحرانوں کی بنیاد پر اپنے کام کو طاقت فراہم کرنا ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے ٹاک شوز دو طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ اول میڈیا بہت زیادہ خود کو سیاسی بنابیٹھا ہے۔ سیاسی پروگراموں کی بھرمار ہے۔ دیگر پروگراموں میں بھی ریٹنگ کی کوشش غالب ہے اور مثبت یا تعمیری عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔میڈیا میں آنے والے سیاسی افراد بھی دو طرح کے مسائل میں الجھے ہوتے ہیں۔ ایک طبقہ حکمران اور دوسرا حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے یا ان کے حامیوں کا ہوتا ہے۔ حکومتی طبقہ سچ یا جھوٹ کو بنیاد بنا کر ایسی تصویر پیش کرتا ہے کہ سب اچھا ہے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کا طبقہ سب کچھ ناکامی کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔
معاشرے میں چاروں اطراف ماتم یا مایوسی کی جو عادت ہے کیا یہ ہمارے مسائل کا حل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ مایوسی یا ناکامی کا طرز عمل ہمیں آگے لے کر جانے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیلتاہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ہی سوچ اور فکر ان نوجوانوں کو بھی منتقل کی جارہی ہے جو واقعی معاشرے میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ان نوجوانوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ یہ معاشرہ ناکامیوں سے دو چار ہے اور یہاں کچھ نہیں ہوسکتا۔تعلیمی اداروں میں استاد خاص طور پر نوجوانوں میں امید کے دیے جلانے کی بجائے ان میں مایوسی کو پیدا کرتا ہے اور ان کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔اسی طرح ایک بحران یہ بھی ہے کہ ہم مسائل کا فوری حل چاہتے ہیں یعنی صدیوں سے بگڑے نظام کو ہم چٹکی بجا کر حل کرنا چاہتے ہیں، جو ممکن نہیں ہوتا۔بظاہر ہمیں یہ ترغیب دی جارہی ہے کہ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی یا لمبی سوچ یا فکر کی بجائے شارٹ کٹ چاہیے۔
اسی معاشرے میں ایسے لاتعداد ہیروز ہیں جو بظاہر تو بہت بڑے نہیں او رنہ ہی ان کو بہت سے لوگ جانتے ہیں۔لیکن وہ معاشرے کی خدمت کررہے ہیں۔کیا وجہ ہے کہ ہم معاشرے میں موجود ان حقیقی ہیروز کو ماڈل کے طور پرپیش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں نے بڑی مشکلات، سخت و کٹھن مراحل اور تکالیف کے بعد نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ یہ لوگ ہمارے میڈیا سے اوجھل رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں لکھنے او ربولنے والے افراد یا دانشور طبقہ کو یقینی طور پر مقامی سطح پر موجود ہیروز سے ضرو رملنا چاہئے تاکہ ان میں مایوسی بھی کم ہو اوران میں یہ یقین پیدا ہو کہ ہم بطور معاشرہ انفرادی یا اجمتاعی سطح پر کچھ اچھا بھی کررہے ہیں۔
کوئی بھی معاشرہ مکمل تاریکی نہیں ہوتا۔ اس میں جہاں کچھ خرابیاں ہیں وہیں بہت کچھ اچھا بھی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ ہم کامیابی کو جانچنے یا سمجھنے کی حساسیت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بطور معاشرہ اپنے اردگر د کی کامیابیوں کو سمیٹنے یا اس پر خوشی کا اظہا رکرنے میں کافی کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ رویہ مجموعی طور پر معاشرے میں مایوسی پیدا کرتا ہے او ر اس کا نتیجہ لوگوں میں غیر یقینی، مایوسی، ذہنی دباؤ ، لاتعلقی، غصہ، نفرت یا منفی سرگرمیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔خاص طور پر معاشرے میں استاد، دانشور، صحافی، شاعر، ادیب، مصور، فن کار، عالم دین، مبلغ، کھلاڑی اور ایسے شعبوں سے جڑے افرادکو معاشرے میں مایوسی کی بجائے امید کا دیا جلانا چاہئے۔ تنقید ضرور ہو لیکن اس کی بنیاد اصلاح، اصلاحات اورتعمیر سے ہونی چاہیے۔
اس وقت معاشرہ جن حالات و واقعات سے گزر رہا ہے اس میں ہمیں خود کو کھڑا بھی کرنا ہے اور حالات سے مقابلہ کرکے دوسروں کو بھی کھڑا کرنا ہے۔ ریاست ہو یا حکومت ان کے معاملات پر نظر بھی رکھنی ہے اور دباؤبھی بڑھانا ہے۔ہمیں بطور قوم اپنے ملک کے لیے ہر محاذپر خود کو سفیر کے طور پر پیش کرنا ہے۔ معاشرے پر تنقید کے ساتھ ساتھ اس کے اچھے او رمثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ نئی نسل ہماری امید اور روشنی ہے او را س کے پاس سوشل میڈیا کی ایک بڑی طاقت ہے۔ اسے اپنی طاقت بنا کر مثبت تعمیر نو کے عمل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔وہ لوگ جو مسلسل مایوسی بڑھارہے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ایک مثبت و متبادل بیانیہ کو مضبوط کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر منفی رویوں سے ہماری نئی نسل نمٹ سکتی ہے۔لیکن اس کے لیے رائے عامہ بنانے افراد یا ادارے مثبت بیانیہ کے ذریعے ایک محفوظ پاکستان کا راستہ ہموار کرسکتے ہیں۔