اسلامو فوبیا یا مسلمانو فوبیا
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 01 / نومبر / 2020
- 17140
اسلاموفوبیا کا آتش فشاں اس بار فرانس میں پھٹا ۔ توہین آمیز خاکوں کی نمائش کسی سکول میں ہوئی اور ایک سکول ٹیچر کا سر قلم کردیا گیا ۔ مجرم اپنی سزا کو پہنچا ۔ اب وہ خُدا کے حضور اپنے اعمال کا جواب دے رہا ہوگا ۔ وہاں کیا ہورہا ہوگا کوئی نہیں جانتا ۔ لیکن مسلمان ، کراہ ارض پر آباد مسلمان ، قتل کے بعد بھی سراپا احتجاج ہیں ۔
دنیا کے بہت سے مسلمان علما اور مسلمان ملکوں کی حکومتیں اس احتجاج میں شریک ہیں ۔ فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کا شور مچایا جا رہا ہے ۔ فرانسیسی صدر کے پُتلے اور تصویریں نذرِ آتش کی جارہی ہیں مگر کیا وہ مسلمان جو فرانس میں آباد ہیں ، احتجاجاً فرانس چھوڑ کر مسلمان ملکوں کو چلے جائیں گے؟ نہیں ایسا نہیں ہوگا ۔ وہ سب وہیں ان گستاخوں کے درمیان رہیں گے کیونکہ فرانس میں زندگی دوسرے مسلمان ملکوں کی نسبت بہتر ہے ۔ اگر نہ ہوتی تو اس واقعے کے بعد مسلمان فرانس کو چھوڑ کر اپنے آبائی ملکوں کو چلے جاتے ۔ مگر اسلام سے ہمارا جذباتی رشتہ اتنا بھی گہرا نہیں کہ ہم فرانس سے اپنا اقامتی رشتہ توڑ دیں ۔
جب اسلاموفوبیا کی بات ہوتی ہے تو مجھے اسلاموفوبیا تو نظر نہیں آتا مگر مسلمانو فوبیا ضرور نظر آتا ہے ۔ وہ مسلمان جو اس وقت کرہ ارض پر آباد ہیں عقائد کے اعتبار سے بہتر برانڈ کے ہیں ۔ ہر فرقہ اپنے برانڈ کو سچا جانتا ہے ۔ ان میں سے بعض بعضوں کے دشمن ہیں ۔ ایک دوسرے کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ اسلامی عقائد کی بنیاد پر قتل مسلمانوں کی تاریخ کا ایک تاریک باب ہے ۔ اس قتل کا آغاز خلیفہ دوم حضرت عمر ؓ کے قتل سے شروع ہوا ۔ پھر تیسرے راشد خلیفہ حضرت عثمان ؓ کو تلاوتِ قرآن کرتے شہید کیا گیا ۔ چوتھے خلیفہ حضرت علیؑ کو مسجد میں سجدے کی حالت میں شہید کیا گیا اور اُس کے بعد مسلمانوں نے کربلا کے میدان میں خانوادہ ء رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو صفحہ ء ہستی سے مٹا دیا ۔اور یہ سب مسلمانوں نے کیا ۔ حالانکہ ان خلفا نے اسلام کے خلاف کوئی جرم نہیں کیا تھا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
قرآنِ کریم ، قتل کے ضمن میں ایک فارمولا وضع کرتا ہے کہ جس نے بغیر کسی قتل کے بدلے قتل کا ارتکاب کیا ، اُس نے زمین پر فساد برپا کیا ، گویا اس نے پوری جمعییتِ انسانی کو قتل کیا ۔ اور مسلمانوں نے اسلام کے ظہور کے چند برسوں میں تین بار جمعییت انسانی کو قتل کیا اور پھر کربلا کے میدان میں تو وہ ہر حد سے گزر گئے ۔ حیرت ہے کہ سارے قاتل مسلمان تھے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کا زبانی دعویٰ ، اعمال کی گواہی کے بغیر مسلمان ہونے کی گواہی ہے ؟ میں کسی مُلا سے کیا پوچھوں کیونکہ ہر مُلا اپنے عقیدے کے مطابق اپنا نکتہ ء نظر پیش کرے گا ۔ جب کہ قرآن میں سورہ بقر کی ۸ویں آیت میں مسلمانوں کی ایک قسم کا ذکر یوں کیا گیا ہے :
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خُدا اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔ البقر ۔ آٹھویں آیت
ایسے لوگ جن کا ظاہر اور باطن ایک نہ ہو منافق کہلاتے ہیں اور جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں ۔ کسی کے منافق ہونے کا اتنا ثبوت ہی کافی ہے کہ وہ مونہہ پر تو آپ اور جناب کہ کر مخاطب کرتے ہیں اور اُنہی دوستوں اور عزیزوں کی عدم موجودگی میں اُن کے بارے میں انتہائی رقیق گفتگو کرتے ہیں ۔ بہت سے ایسے بیٹے ہیں جو اپنے والد کو مونہہ پر جی ابا جی کہتے ہیں اور دوستوں سے کہتے ہیں کہ میرا پیو بڑا ڈاڈھا اے یار ۔ یعنی اپنے ابا جی کو دوستوں کے سامنے سخت گیر پیو بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ منافقت کا یہ چلن ہمارا مروجہ سماجی رویہ ہے ۔ ہم نے ظاہر اور باطن میں ایک ہونا سیکھا ہی نہیں ۔ اور ہمارا یہ رویہ صدیوں سے چل رہا ہے اور اب ہماری فطرتِ ثانیہ بن چکا ہے ۔ غالب نے کہا تھا :
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
مذہبی معاشروں کے لوگ اس روحانی اور اخلاقی بیماری میں اتنی صدیوں سے مبتلا ہیں کہ اب وہ اسے صحت مندی کی علامت سمجھنے لگے ہیں ۔ ہمارے یہاں بیشتر لوگوں کے نام محمد ، احمد ، حامد ، محمود سے لے کر یسین ، طہٰ اور شفیع تک ہوتے ہیں ۔ یہ نام مسلمان کے تشخص کی نمائندگی کرتے ہیں اور اگر ان ناموں کے ساتھ کوئی مسلمان جھوٹ بولتا ہے ، کسی کا حق غصب کرتا ہے ، رشوت کا لین دین کرتا ہے ، اشیا میں ملاوٹ کرتا ہے ، ذخیرہ اندوزی کرتا ہے تو وہ ان ناموں کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی سزا بھی وہی ہونی چاہیے جو خاکے بنانے والوں کی ہے ۔ ہم نے لفظ محمد کی کئی مقامی شکلیں ایجاد کر لی ہیں ۔ محمد ہمارے ہاں ممد ، مما ، ممدو اور ممدا ہیں اور ہم ان ناموں والے لوگوں کو جب ہم ماں بہن کی گالی دیتے ہیں تو یہ فعل مقدس ناموں کو کون سا اعزاز دیتا ہے؟ مثلاً ایک بچے کا نام محمد ہے اور اُسے باپ یا ماں کوس رہے ہیں اور کنجر سے لے کُتا اور گدھا تک کہہ رہے ہیں ۔ کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حُکم کی خلاف ورزی گستاخی کی ذیل میں نہیں آتی ؟ کیا رشوت ، ملاوٹ ، جھوٹ ، کبر و ریا ، اور اسراف کی روایات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتیں ہیں ؟ یہ سارے گناہ اور رسول آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی کون سا قصیدہ بُردہ شریف ہیں ۔ تعجب ہے کہ آپ جو ظُلم چاہیں کریں وہ تو روا ہے کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات آپ کی پراپرٹی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت العالمین ہیں ۔ دنیا بھر کی انسانی برادری کے لیے محبت ، رحمت اور مساوات کا پیغام ہیں جسے کچھ لوگ چھین کر اُسے اپنی نجی پراپرٹی بنا رہے ہیں ۔
ہمارے یہاں تو اپنے آپ کو علما کہلوانے والے لوگ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کا پاس نہیں کرتے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے ۔ ہمارے علما کی اکثریت جب عام مسلمانوں سے ملتی ہے تو اُن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنے کبر کی وجہ سے مسکراہٹ تک نہیں دے سکتے ۔ وہ اتنے غریب ہیں کہ یہ معمولی صدقہ تک نہیں دے سکتے ۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کھلی اور بے رحمانہ گستاخی ہے ۔ اگر آج کے مسلمان علما اور سیاسی لیڈر اسلام سے مُخلص ہوتے تو حکومتی سطح پر کمیونی کیشن اور دو طرفہ تبادلہ خیال سے اس مسئلے کا کوئی حتمی حل تلاش کرتے اور ایک دوسرے کے مذہب کے احترام کو عالمی قانون کی شکل میں عالمی برادری سے نافذ کرواتے مگر کسی نے کئی سالوں میں ایسا نہیں کیا ۔
سب احتجاج کی شراب پی کر مست رہے ۔ اور آج بھی یہی ہو رہا ہے کہ مومن کی فراست کی بجائے سیاسی ہتھکنڈوں سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے اور ہماری بد قسمتی کہ ہمارے یہاں وہ مومن موجود نہیں ہے جو فراست سے اس معاملے کو طے کرواتا ۔ اور ہم جب تک اسی راستے پر چلتے رہیں گے تب تک خُدا ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم اپنے اعمال کی قید میں سزا سہتے رہیں گے ۔