کورونا پھیلنے سے لاک ڈاؤن کا خدشہ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر منفی اثرات
- سوموار 02 / نومبر / 2020
- 5730
ملک اور دنیا بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز اور لاک ڈاؤن کے خدشے کے اثرات پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر بھی پڑنے لگے اور کاروباری ہفتے کے آغاز کے پہلے روز ہی مارکیٹ تقریباً ایک ہزار پوائنٹس گر گئی۔
پیر کو جب مارکیٹ کا آغاز ہوا تو مارکیٹ میں مندی دیکھی گئی اور سہ پہر تک کے ایس ای 100 انڈیکس 963.74 پوائنٹس گر کر 38 ہزار 924 پر پہنچ گیا۔ مارکیٹ میں کمی کے باعث سب سے زیادہ نقصان کمرشل بینکوں کو اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد تیل اور گیس کمپنیاں اور مارکیٹنگ کمپنیاں بھی خسارے کا شکار ہوئیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر لاک ڈاؤن کے خطرے کی وجہ سے مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔ وائرس کے کیسز بڑھنے، تیل کی قیمتیں کم ہونے اور ممکنہ طور پر امریکی انتخابات کے اثرات پر غیریقینی صورتحال کے باعث مجموعی معاملات کمزور ہیں۔
خیال رہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران طلب کم ہونے پر خام تیل (کروڈ) کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے تیل سے متعلق اسٹاکس دباؤ میں رہی۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے اثرات بھی مارکیٹ پر نظر آنے لگے۔
گزشتہ ہفتے ملک میں جولائی کے بعد پہلی مرتبہ ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق یکم نومبر کو 27 ہزار 953 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے ایک ہزار 123 مثبت آئے جو 4.02 فیصد کی شرح ہے۔ علاوہ ازیں یورپ میں گزشتہ 5 ہفتوں میں کیسز دوگنے ہونے پر برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا تھا۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز میں تجزیہ کاز عمر فاروق کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے کیسز میں قابل ذکر اضافے کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں کمی نے وسیع پیمانے پر خطرات کو جنم دیا جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس دن کے دوران 38 ہزار 807 (2.79 فیصد کمی) تک پہنچ گیا۔