سندھ ہائیکورٹ نے 13 سالہ عیسائی لڑکی بازیاب کروانے کا حکم دے دیا
- سوموار 02 / نومبر / 2020
- 8130
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سے اغوا ہونے والی ایک 13 سالہ عیسائی لڑکی کو بازیاب کروانے اور دارالامان بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ اس لڑکی کو مبینہ طور پر گھر سے اغوا کرکے مذہب تبدیل کرنے اور ایک عمر رسیدہ شخص سے شادی پر مجبور کیاگیا تھا۔
وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ جج نے حکم دیا کہ پولیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے لڑکی کو بازیاب کرایا جائے اور اسے دارالامان منتقل کیا جائے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت جمعرات کی صبح ہوگی۔ وفاقی وزیر کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی طرف سے ایک انٹروینر دائر کیا جائے گا۔
آرزو راجہ کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی اور لکھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر لڑکی کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ عدالت نے یہ نوٹ کیا کہ لڑکی کی عمر اور شادی قانونی ہے تو کیا جبری طور پر مذہب تبدیل کیا گیا۔ عدالت اس معاملہ پر غور کرے گی۔ جبران ناصر کے مطابق انہیں حکومت سندھ پر بھروسہ ہے اور پولیس آرزو کی بازیابی کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کو بچانے کے لیے، حکومت، عدلیہ، وکلا، سول سوسائٹی اور میڈیا کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔ ہم سب کو اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ عدالت نے صوبائی حکومت کی جانب سے دائر درخواست پر ہدایات جاری کی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 13 سالہ آرزو راجہ کے اغوا اور جبری مذہب تبدیلی کے بعد ایک مسلمان معمر شخص سے شادی کے خلاف انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا۔ آرزو کے والد راجا کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 13 اکتوبر کو وہ اور ان کی اہلیہ کام پر گئے تھے جبکہ ان کا بیٹا شہباز اسکول گیا تھا۔ آرزو سمیت ان کی 3 بیٹیاں ریلوے کالونی میں ان کے گھر میں تھیں۔ انہیں ایک رشتے دار کی کال موصول ہوئی کہ آرزو گھر سے غائب ہے۔
راجا کا کہنا تھا کہ وہ گھر پہنچے اور انہوں نے اپنے پڑوسیوں سے رابطہ کیا لیکن بیٹی کا کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ بعد ازاں انہوں نے فریئر تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا۔ آرزو کے اہل خانہ نے روزنامہ ڈان کو بتایا تھا کہ ان کی بیٹی کا مبینہ شوہر اظہر ان کے گھر کے سامنے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتا تھا اور اس کی عمر 45 سال ہے۔
آرزو کی والدہ کا کہنا تھا کہ جس نے اسے کو اغوا کیا اس نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ 18 سال کی ہے جعلی کاغذات تیار کیے۔ دوسری جانب پولیس نے لڑکی کے مبینہ شوہر سید علی اظہر کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کے دو بھائیوں اور ایک دوست کو کم عمر لڑکی کے مبینہ طور پر اغوا، زبردستی مذہب تبدیلی اور شادی کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔
اس سے قبل ہفتے کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے آرزو کے اہل خانہ کی جانب سے اسے دارالامان بھیجنے کے لیے دائر درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ جبران ناصر نے اعتراض کیا تھا کہ لڑکی 13 سال ہے لہٰذا تفتیشی ایجنسی کی جانب سے اس معاملے میں بچوں کی شادی کی روک تھام کے قانون کی دفعات کو شامل کیا تھا۔ شکایت کنندہ کی جانب سے تفتیشی افسر کو متاثرہ لڑکی کی عمر سے متعلق دستاویزات بھی فراہم کردی گئی تھیں۔ جن میں اس کی عمر 13 سال ہے۔
جبران ناصر کا مؤقف تھا کہ متاثرہ لڑکی کا ملزم اظہر کے ساتھ رہنے سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 (ریپ کے لیے سزا) کے ساتھ دفعہ 375 (5)، (ریپ: 16 سال کے کم عمر ہونے پر رضا مندی یا بغیر رضا مندی کے ساتھ) کے تحت قابل سزا جرم کے زمرے میں آئے گا۔ شکایت کنندہ کی جانب سے لڑکی کے ڈی این اے ٹیسٹنگ اور دیگر ضروریات پوری کرنے تک لڑکی کو دارالامان بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی۔
اس کیس میں تفتیشی افسر انسپکٹر شارق احمد صدیقی نے کہا تھا کہ متاثرہ فریق سندھ ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوا تھا اور اسے 27 اکتوبر کے عدالتی حکم کی تعمیل میں تھانہ پریڈی کے ایس ایچ او کی حفاظت میں بھیج دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے متاثرہ لڑکی کے بی فارم کی تصدیق کی ہے جو قومی ڈیٹابیس اور رجسٹریشن اتھارٹی کے مطابق اصلی ہے۔