کابل یونیورسٹی پر حملے میں 19 افراد ہلاک، حملہ آور بھی مارے گئے

  • سوموار 02 / نومبر / 2020
  • 8770

افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ پیر کو کابل یونیورسٹی میں دہشت گردوں کے حملے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ سیوکرٹی فورسز کی کارروائی میں تین حملہ آور بھی  مارے گئے ہیں۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان طارق آریان کے مطابق  کئی مسلح دہشت گرد یونیورسٹی میں داخل ہوئے جنہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی اور اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔  بہت سے اساتذہ اور طلبہ کو یونیورسٹی سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے وائس آف امریکہ افغان سروس کو بتایا کہ دوران کلاس چند طلبہ نے کلاس روم میں داخل ہو کر اُنہیں حملے کے بارے میں بتایا جس کے بعد لوگ یونیورسٹی کے خارجی دروازوں کی طرف بھاگنے لگے۔  ہائیر ایجوکیشن کی وزارت کے ترجمان نے بتایا کہ یونیورسٹی کے شعبہ قانون اور پولیٹیکل سائنس کے باہر فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

کابل یونیورسٹی میں فائرنگ کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل  ہیں جن میں طلبہ کو ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔  ترجمان کے بقول یونیورسٹی میں فائرنگ اور دھماکے سے متعلق یہ کہنا قبل از وقت ہوگا یہ دونوں واقعات ایک منصوبے کے تحت ہوئے ہیں۔

دوسری جانب طالبان نے یونیورسٹی میں فائرںگ کے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر امراللہ صالح نے طالبان کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔  امراللہ صالح کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ واقعہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے جس کی تحقیقات کی جائیں گی۔  اُن کا کہنا تھا کہ طالبان اور اُن کے ہمدرد اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کر کے اس کارروائی میں اپنے ہاتھ صاف نہیں کر سکتے۔

افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔  کابل یونیورسٹی میں فائرنگ کے بعد طلبہ کو یونیورسٹی کی دیواریں پھلانگتے ہوئے دیکھا گیا۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا جس میں طالبان کے دہشت گردی کی روک تھام  کجا وعدہ کیا تھا۔ اور امریکہ نے افغانستان سے مئی 2021 تک  افواج واپس بلانے کا وعدہ کیا تھا۔

طالبان نے مستقل جنگ بندی اور افغان حکومت کے ساتھ شراکتِ اقتدار کا فارمولا طے کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ستمبر میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ البتہ ان مذاکرات میں کسی  قسم کی پیش رفت  نہیں ہو سکی ہے۔