وی آنا میں فائرنگ سے چار افراد ہلاک، متعدد زخمی ہوگئے

  • منگل 03 / نومبر / 2020
  • 3710

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مختلف مقامات پر مسلح افراد کی فائرنگ کے واقعات میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس نے ایک حملہ آور کو ہلاک کیا ہے جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رائفلوں سے لیس متعدد حملہ آوروں نے شہر کے وسطی علاقے میں چھ مقامات پر حملہ کیا۔  ویانا کے میئر مائیکل لدویگ کے مطابق ایک شہری کی ہلاکت فائرنگ کے مقام کے قریب ہوئی جبکہ ایک خاتون سمیت دو افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں ہلاک چل بسے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق پیر کی شام پیش آنے والے فائرنگ کے ان واقعات میں ایک درجن سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے جبکہ پولیس نے ایک حملہ آور کو ہلاک کیا ہے۔ آسٹریا کے چانسلر سیباسٹیئن کرز نے اس حملے کو قابلِ مذمت قرار دیا ہے جبکہ وزیرِ داخلہ کارل نیہامر کا کہنا ہے کہ جس حملہ آور کو پولیس نے ہلاک کیا وہ اسلام پسند دہشت گرد تھا۔

وزیر داخلہ نے بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والا حملہ آور شدت پسند تنظیم داعش کا ہمدرد تھا، جس کے گھر کی تلاشی کے دوران ویڈیو میٹریل قبضے میں لیا گیا ہے۔  محکمہ پولیس نے ایک ٹویٹ کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے حملہ آور نے جسم پر نقلی خود کش بیلٹ بھی پہن رکھی تھی۔

آسٹریا کے چانسلر سیباسٹیئن کرز نے ٹوئٹر پر کہا کہ ہم اپنی جمہوریہ میں مشکل گھڑی سے گزر رہے ہیں۔ ہماری پولیس اس قابلِ مذمت دہشتگرد حملے کے منصوبہ سازوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کرے گی۔  انہوں نے لکھا کہ 'ہم کبھی بھی دہشتگردی سے گھبرائیں گے نہیں اور اس حملے کا اپنے تمام وسائل سے مقابلہ کریں گے۔'

واقعے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریا کے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والا حملہ آور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا حامی تھا جس کی رہائش گاہ کی تلاشی کے دوران ویڈیو مواد قبضے میں لیا گیا ہے۔  اس سے قبل وزیرِ داخلہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ ایک ’مسلح اور خطرناک‘ حملہ آور مفرور ہے۔ ویانا کے شہریوں سے شہر کے وسطی علاقے میں نہ جانے اور والدین سے منگل کو بچوں کو سکول نہ بھیجنے کی اپیل بھی کی گئی تھی۔

یہ واقعہ شہر کے مرکزی شویڈینپلاٹس سکوائر کے قریب پیش آیا ہے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس علاقے سے دور رہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال نہ کریں۔ فائرنگ کا یہ واقعہ ایک یہودی عبادت گاہ کے قریب پیش آیا۔ یہودی برادری کے مقامی رہنما نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ حملے کا نشانہ عبادت گاہ تھی۔ حملے کے وقت عبادت گاہ بند تھی۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق عبادت گاہ کی حفاظت پر مامور سکیورٹی گارڈ اس حملے میں زخمی ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ بھاگ رہے ہیں جبکہ پس منظر میں مبینہ طور پر گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔  خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک عینی شاہد نے سرکاری نشریاتی ادارے او آر ایف کو بتایا کہ 'ہمیں لگا کہ یہ پٹاخے ہیں مگر بعد میں احساس ہوا کہ یہ گولیاں ہیں۔'

پڑوسی ملک جمہوریہ چیک نے کہا کہ وہ احتیاطی اقدام کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر مسافروں اور گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔  فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یورپ کو حملوں سے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔  انہوں نے کہا کہ 'ہم فرانسیسی لوگ آسٹریا کے لوگوں کے صدمے اور دکھ میں شریک ہیں۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے ویانا کے لوگوں کے لیے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ  انہیں حملوں سے شدید صدمہ ہؤا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ آسٹریا کے لوگوں کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔ یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے اسے بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جان اور انسانی اقدار کے خلاف ہے۔