صدر ٹرمپ ووٹوں کی گنتی رکوانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے

  • بدھ 04 / نومبر / 2020
  • 5170

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں اپنی فتح کا قبل از وقت اعلان کرتے ہوئے کئی ریاستوں میں تاحال جاری ووٹوں کی گنتی روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب وائٹ ہاؤس میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کئی ریاستوں کا نام لے کر کہا کہ وہاں ہم نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تاہم انہوں نے انتخابی نتائج پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسے قوم کے لیے بڑا دھوکہ قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی قبل از وقت فتح کا دعویٰ اور ووٹوں کے گنتی کے خلاف عدالت جانے کا اعلان ایسے وقت کیا ہے جب کئی ریاستوں میں منگل کو ہونے والے انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی تا حال جاری ہے۔ اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کے حریف جو بائیڈن کے درمیان ذبردست مقابلہ ہے۔

جو بائیڈن 220 الیکٹورل ووٹ حاصل کر چکے ہیں جب کہ ٹرمپ نے 213 الیکٹورل ووٹ حاصل کئے ہیں۔ کسی بھی امیدوار کو کامیابی کے لیے 538 میں سے 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حامیوں سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں ٹیکساس میں جیتنے کی ضرورت تھی جہاں ہم جیت گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اوہائیو اور مشی گن سے بھی جیت گئے ہیں۔ جارجیا، شمالی کیرولائنا اور پینسلوینیا میں بھی شاندار کارکرگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ کامیابی کا جشن منانے کے لیے تیار ہیں۔

صدر ٹرمپ جب اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے اس وقت تک پینسلوینیا، وسکونسن اور مشی گن جیسی اہم سمجھی جانے والی ریاستوں کے نتائج آنا باقی تھے۔ ان ریاستوں سے آنے والے نتائج امیدواروں کو حاصل الیکٹورل ووٹ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام ووٹوں کی گنتی کو روک دیا جائے کیوں کہ اب مزید ووٹنگ نہیں بلکہ ووٹوں کی گنتی ہونا ہے۔  خطاب سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ہم فتح کے قریب ہیں لیکن انتخابات چوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ کو متنازع قرار دیا اور اسے لیبل کردیا تھا اور کہا کہ انتخابات سے متعلق اس ٹوئٹ میں گمراہ کن معلومات ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔