آزادی اظہار رائے کی آڑ میں مسلمانوں کی توہین نہیں ہونی چاہیے: وزیر اعظم
- بدھ 04 / نومبر / 2020
- 8800
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا اور اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں مسلمانوں کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔
بوسنیا ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفرووچ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ شفیق جعفرووچ کا پاکستان آمد پر بھرپور خیر مقدم کرتا ہوں۔ 90 کی دہائی میں بوسنیا کے شہریوں کی مشکل کی گھڑی میں پاکستان کے عوام نے بھرپور مدد کی۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 45 لاکھ یورو ہے، ہم اس کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ تجارت سمیت ہر شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان بوسنیا کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ان معاہدوں سے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ شفیق جعفرووچ اور بوسنیا کی حکومت کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتی ہے۔ جس پر ان کے شکرگزار ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ آزادی اظہار رائے کو کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے فرانس میں گستاخانہ مواد کے معاملے پر بھی بات کی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں مسلمانوں کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ رسول پاکؐ کی ذات کی حرمت مسلمانوں کے لیے بہت اہم معاملہ ہے۔ اس بات کو یورپی اور مغربی ممالک کو سمجھنا چاہیے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے بوسنیا ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر دورہ پاکستان پر بہت خوشی ہوئی ہے۔ پاکستان اور بوسنیا دوست ممالک ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ جنگ کے دوران اور بعد بوسنیا ہرزیگووینا کی امداد پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ اقوام متحدہ امن مشن کے تحت بھی پاکستانی دستوں نے بوسنیا میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ آج ہم نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل انسانی حقوق کنونشن کے تحت حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اہم مسئلہ ہے جبکہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہم فرانس اور آسٹریا میں دہشت گردی کے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ اس معاملے پر واضح موقف ہے کہ برائی سے کوئی اچھائی نہیں نکل سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں اسلاموفوبیا کی مذمت کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیے جانے کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ دوسروں کے مذہبی جذبات کا بھی خیال کیا جانا چاہیے جبکہ آزادی اظہار رائے کی حدود و قیود ہونی چاہئیں۔
قبل ازیں دونوں ممالک کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ بوسنیا ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفرووچ کی وزیر اعظم ہاؤس آمد پر پروقار استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے معزز مہمان کا استقبال کیا جبکہ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔