جو بائیڈن اور صدر ٹرمپ میں سخت مقابلہ، ابھی تک انتخابی فاتح کا اعلان نہیں ہؤا

  • بدھ 04 / نومبر / 2020
  • 8320

امریکا میں صدارتی انتخاب کی پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن اور ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سخت مقابلہ ہؤا ہے۔

اب تک کے غیر حتمی نتائج کے  مطابق جو بائیڈن کو 224 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 213 الیکٹورل ووٹ ملے ہیں۔ جیتنے کے لئے 270 مینڈیٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ 6 ریاستوں کے نتائج آنا تاحال باقی ہے جن میں وِسکونسِن، مشی گن، پنسلوینیا، جارجیا، نواڈا اور نارتھ کیرولائنا شامل ہیں۔ جو بائیڈن کو کامیابی کے لیے ان ریاستوں میں سے کم از کم تین جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کم از کم چار میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو اب تک 50 میں سے 21 ریاستوں میں برتری حاصل ہے۔ تاہم نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سونگ ریاستوں میں جیتنے کے لئے سخت مقابلہ ہورہا ہے۔ صدر سب سے اہم سونگ ریاست فلوریڈا کے 29 الیکٹورل ووٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 200 سالوں سے اس ریاست میں کامیاب ہونے والا امیدوار صدارتی انتخاب جیتتا رہا ہے۔ امریکی صدر نے ایک اور اہم ریاست ٹیکساس میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ وہاں سے انہیں 29 الیکٹورل ووٹ ملے ہیں۔

دوسری جانب جو بائیڈن امریکا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا میں جیتنے میں کامیاب ہوگئے جس کے 55 الیکٹورل ووٹس ہیں۔ ہ یہ جو بائیڈن کی نائب صدارتی امیدوار کمالا ہیرس کی آبائی ریاست بھی ہے۔

دیگر سونگ ریاستیں جو کہ انتخابی نتائج میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی، ان کا نتیجہ آنا باقی ہے۔ صدر کے انتخاب کے ساتھ حالیہ ووٹ سے یہ فیصلہ بھی ہوگا کہ کون سی جماعت آئندہ 2 سال کے لیے امریکی کانگریس کا کنٹرول سنبھالے گی۔

امریکی سینیٹ کی 35 نشستوں پر بھی مقابلہ ہورہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی ری پبلیکن کی اکثریت کو ختم کرنے کی خواہاں ہے۔ امریکی صدر کے الابامہ، مسی سپی اور اوکلاہوما میں جبکہ جو بائیڈن کے میسا چوسیٹس،  آبائی ریاست ڈیلا ویئر اور ورجینیا میں جیتنے کے امکان روشن ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو ورجینیا، جنوبی کیرولینا، ٹینیسی،ارکنساس،انڈیانا، لوزیانا، نیبراسکا، نارتھ ڈیکوٹا اور وایومنگ میں برتری حاصل ہے۔

جو بائیڈن نے کنیکٹی کٹ، ایلینوائے، میری لینڈ،میسا چوٹیس،نیو جرسی، روہڈ آئی لینڈ، نیو میکسکو،نیو یارک اور کولمبیا اور کولوراڈو کے ضلع میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

امریکی صدارتی انتخاب کے لیے ڈاک کے ذریعے بھی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ کورونا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے سبب امریکی شہریوں کی بہت بڑی تعداد نے ڈاک کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

رپورٹس کے مطابق 10 کروڑ 20 لاکھ امریکی شہریوں نے ووٹنگ کے دن سے پہلے ہی اپنا ووٹ دے دیا اس کے باوجود لاکھوں لوگ الیکشن کے روز ووت دینےکے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔