’ایسی ویسی جمہوریت‘

ہمارے یہاں جمہوریت اور سیاست بس ’ایسی ویسی‘ ہی رہی ہے۔ ہمارے سیاست دانوں میں بہت سی خامیاں اور خرابیاں ہیں۔ مگر خدارا یہ ملک سے غداری کی اسناد دینا بند کردیں ورنہ محبِ وطن تلاش کرنا مشکل ہوجائیں گے۔

آئین توڑنے والا اگر محض آئین شکن ہوسکتا ہے تو ایک غیر ذمہ دار بیان دینے والا غدار کیسے ہوسکتا ہے؟ بات ہو رہی تھی ’ایسی ویسی‘ جمہوریت کی۔  مجھے تو عمران خان کہیں جاتے ہوئے نظر نہیں آتے کیونکہ ہماری سیاست میں حکومتیں جانے کے کچھ اشارہ ہوتے ہیں۔ مثلاً ہر حکومت میں رہنے والے وقت سے پہلے ’قومی مفاد‘ میں الگ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ابھی تو ایسے تمام ’لوٹے‘ اپنی جگہ موجود ہیں۔ گجرات کے چوہدری بھی الگ ہوتے ہوتے رک گئے جب نیب کی تحقیقات ختم کردی گئیں۔

ٹوٹی پھوٹی متحدہ قومی موومنٹ بھی ساتھ ہے۔ وہ تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا؟ اب تک صرف اختر مینگل صاحب الگ ہوئے ہیں اور وہ ظاہر ہے کچھ بنیادی اصولوں پر اختلاف رکھتے ہیں۔ احتجاج اور تحریکوں کے پیچھے اگر کوئی نہ ہو تو اس کا نتیجہ کچھ ’ایسا ویسا‘ ہی نکلتا ہے جیسا مولانا فضل الرحمان کے پچھلے دھرنے کا ہوا یعنی:

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

اس بار ان کے سیاسی دوستوں نے یقین دلایا ہے کہ آخر دم تک ساتھ دیں گے۔ شاید اسی لیے انہوں نے 11جماعتوں کا اتحاد بنالیا۔ ہماری سیاسی تاریخ بڑے دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ایک طرف ’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘ کا نعرہ لگا تو دوسری طرف راتوں رات پوری پنجاب اسمبلی وفاداریاں تبدیل کرگئی۔ زیادہ دور نہ بھی جائیں تو 2018 کے الیکشن سے پہلے بلوچستان میں کیا ہوا۔ پوری کی پوری مسلم لیگ (ن) ہی لاپتہ ہوگئی۔ بازیاب ہوئی تو جماعت ہی بدل چکی تھی۔ تب ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ کس کی حکومت آنے والی ہے اور کون جانے والا ہے؟ ہمارے پیارے دوست پی پی پی کے آیت اللہ درانی مرحوم نے اس وقت مجھ سے ایک کمال جملہ کہا۔ ’مظہر بھائی، اس بار حکومت کرنے کا ٹینڈر ہمارے نام نہیں کھلا۔ شاید زرداری صاحب نے قیمت اچھی نہیں لگائی۔‘

ایک زمانہ تھا جب اتنے لوٹے ہوتے تھےکہ پانی ختم ہوجاتا تھا لیکن لائن ختم نہیں ہوتی تھی۔ ہر کوئی ایک فون کال کا انتظار کرتا تھا۔ ایک بار ہمارے دوست امتیاز شیخ کو یقین تھا کہ وہ وزیراعلیٰ بن جائیں گے۔ ’بھائی‘ کی حمایت لینے 90 عزیزآباد پہنچ گئے۔ واپسی میں مجھے فون کرکے کہا ’متحدہ والوں نے حمایت کردی ہے۔‘ میں نے کہا ’شیخ صاحب، گورنر ہاؤس کو اوپر سے فون آگیا ہے۔ بازی پلٹ گئی ہے‘۔ پھر ایسا ہی ہوا اور لاٹری کسی اور کے نام نکلی۔ غلام مصطفی جتوئی بڑے زیرک سیاست دان تھے۔ انتہائی ٹھنڈے مزاج۔ ایک زمانے میں وہ تحریکِ بحالی جمہوریت، ایم آر ڈی کے کنوینر تھے۔ ان کے ساتھ دو بار ’ہاتھ‘ ہوگیا۔

جتوئی صاحب نے 1983 میں تحریک کے دوران بڑے بیٹے مرتضی جتوئی پر قتل کے مقدمے کے دباؤ میں پی پی پی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ پہلے لندن گئے۔ واپسی کا اعلان ہوا تو جیالوں نے ان کا استقبال کیا۔ وہ سمجھے یہ چار پانچ ہزار لوگ ان کے لیے آئے ہیں۔ جب وہ استقبالیہ ٹرک پر سوار ہوئے تو پورے راستے ایک ہی نعرہ لگتا رہا۔ ’بھٹو فیملی ہیرو ہیرو باقی سب زیرو زیرو‘۔ کوئی تین سے چار گھنٹے انہیں یہ سب برداشت کرناپڑا۔ وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ میرے لوگ نہیں ہیں۔ اوپر والوں کو یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ میرے ساتھ پی پی پی کے لوگ ہیں، بعد میں انہوں نے نیشنل پیپلز پارٹی بنالی۔

میں نے جیسا کہ کہا کہ ہمارے یہاں بس ’ایسی ویسی جمہوریت اور سیاست‘ رہی ہے۔ ایک بار جتوئی صاحب کے ساتھ ’میاں صاحب‘ نے بھی ہاتھ کردیا بعد میں پھر خود ہی مناکر پنجاب سے انہیں جتوا دیا۔ یہ 1990 کی بات ہے۔ اس وقت آئی جے آئی کو جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل کی حمایت حاصل تھی۔ جتوئی صاحب نے اپنے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پلان یہی تھا کہ وہ الیکشن کے بعد وزیراعظم اور میاں نوازشریف وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔ بیگ صاحب کو آگے چل کر صدر بنانا تھا۔ طے یہ پایا کہ پشاور سے کراچی تک ریلی نکالی جائے گی۔ پھر ہوا یوں کہ جب ہم نے پنجاب میں جلسے کیے تو وہاں وزیراعظم نوازشریف کے نعرہ لگنے شروع ہوگئے۔ میں نے کراچی کا ٹکٹ لیا اور واپس آگیا۔

لگتا ہے میاں شہباز شریف کے ساتھ بھی کچھ ’ایسا ویسا‘ ہی ہورہا ہے۔ پہلے بڑے بھائی نے 12اکتوبر 1999 کو بتائے بغیر بڑا فیصلہ کرلیا حالانکہ وہ چوہدری نثار کے ساتھ برابر والے کمرے میں تھے۔ پھر بتائے بغیر سعودی عرب جانے کی ڈیل کرلی حالانکہ وہ (شہباز) نہیں جانا چاہتے تھے۔ پھر 2016 میں نااہل ہوئے تو وزیراعظم شاہد خاقان کو بنادیا۔ جی ٹی روڈ کا راستہ لیا تو بھی خود ہی فیصلہ کیا۔ بات اتنی بگڑ گئی کہ پنجاب میں الیکشن جیتنے کے باوجود ’تختِ لاہور‘ نہ بچا پائے۔ اب شہباز شریف کو میاں شریف مرحوم کی بات یاد آرہی ہوگی جب جنرل جیلانی نےمشورہ دیا تھا کہ سیاست میں چھوٹے کو لے جاؤ، بڑے کو کاروبار کرنے دو۔ پھر کیا تھا سیاست میں ’کاروبار واروبار‘ آتا گیا۔ لانے والے بھی کاروبار کرواتے رہے۔ اسے خرید لو، اسے بیچ دو۔ اس حمام میں سب ہی بے لباس ہوئے کیا سیاست دان اور کیا اُن کے کرم فرما۔

اب ایک نیا کھلاڑی لایا گیا ہے۔ پہلے تو انہیں یقین تھا کہ اقتدار 2013 میں مل جائے گا۔ نہیں ملا تو انہوں نے بھی ’ایمپائر‘ پر سوالات اٹھائے۔ ایک دو کا تو نام بھی لے ڈالا۔ مگر چند سال انتظار کرنا پڑا۔ ماضی کی سیاست کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ایمپائر اپنا ہو نہ ہو، ’اپنا‘ ہی سمجھا جائے اور بس حکومت کی جائے۔ اس لئے خان صاحب نے حکومت بنانے والوں کا ہاتھ انتہائی مضبوطی سے تھامے رکھا ہے۔ اب دیکھیں پارلیمنٹ حملہ کیس میں آرام سے بچ گئے، باقی رہنماؤں پر فردِ جرم لگائی جائے گی۔ عین ممکن ہے کسی ایک دو کو شاید سزا بھی ہوجائے یا بعد میں سب ہی بری ہوجائیں جیسے کہ کوئی حملہ ہوا ہی نہیں تھا۔ بس بھائی ہماری سیاست اور جمہوریت کچھ ’ایسی ویسی‘ ہی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : مظہر عباس

???? ???? ????? ??? ????? ??? ???? ???? ???? ?? ??????? ??? ????? ?? ????? ????? ???? ???? ????????? ??? ??? ???? ?????? ??? ??? ???? ?????? ???? ?? ??? ?? ???? ????? ????